پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ایسے بھی کوئی وزن کم کرتا ہے وزن کم کرنے کے لئے خاتون کا انوکھا طریقہ

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )لوگ وزن کم کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں لیکن22سائز کی اس برطانوی لڑکی نے محض ایک سال میں اپنا سائز 12کر لیا۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہوا؟ ہپناٹزم کی وجہ سے۔
ہپناٹزم قدیم علوم میں سے ایک ہے لیکن ٹیکنالوجی کی جدت کے ساتھ یہ علم بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے۔26سالہ جیسیکا پینی نے موٹاپے میں کمی کی خاطر خود کو ہپناٹائز کروانے کے لیے ماہر کو 300پا?نڈ(تقریباً 48ہزار روپے)ادا کیے۔ ماہر نے اسے ہپنا ٹائز کر کے اس کے زہن میں یہ بات ڈال دی کہ اس کے جسم میں گیسٹرک بینڈ(ایک ڈیوائس جو موٹاپے کا شکار لوگوں کی خوراک کم کرنے کے لیے سرجری کے ذریعے پیٹ میں نصب کی جاتی ہے )نصب کیا جا چکا ہے۔
جیسیکا پر اس ہپناٹزم کا اثر اس قدر ہوا کہ جن لوگوں کے جسم میں واقعی گیسٹرک بینڈ نصب کیا جائے شاید ان پر نہ ہو۔ ہپناٹزم سے قبل جیسیکا کا وزن 140کلوگرام ہو چکا تھا لیکن ایک سال میں اس نے اپنا وزن 76کلوگرام کر لیا۔ جیسیکا کا کہنا ہے کہ یہ بالکل حیرت انگیز کام ہے۔ میں اس وقت دراصل یہ سوچ رہی تھی کہ میں اپنے جسم میں گیسٹرک بینڈ نصب کروانے کے لیے پیسے دے رہی ہوں۔ میں نے ہپناٹزم کے ماہر مسٹر رابرٹ کا صرف ایک سیشن اٹینڈ کیا۔ اس نے مجھے ایک پتھر دیا اور کہا کہ جب میں کھانا کھانے لگوں تو اس پتھر کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھام کر رکھوں اور ساتھ ہی سوچتی رہوں کہ میں نے مٹھی میں جتنا یہ پتھر مضبوطی سے تھام رکھا ہے اتنا ہی مجھے کھانا کھانا ہے۔میں فاسٹ فوڈ کی عادی تھی اور میرا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ مسٹررابرٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے میں نے اپنا وزن 50گلوگرام کر لیا تھا لیکن پھر میں نے دیکھا کہ اتنا کم وزن مجھے نہیں جچتا تھا۔ میں نے مسٹر رابرٹ کو دوبارہ فون کیا۔مسٹر رابرٹ نے مجھے کہا کہ اب کھاتے ہوئے جب پتھر ہاتھ میں رکھو تو یہ سوچنا شروع کرو کہ میں نے پتھر کو زیادہ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ اب اپنی گرفت ہلکی کرکے سوچنا شروع کر دو کہ مجھے اس پتھر سے تھوڑا سا زیادہ کھانا ہے۔ جیسیکا کا کہنا ہے کہ اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے میں نے اپنا وزن 50کلوگرام سے بڑھا کر 76کلو گرام تک کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…