پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

چو بیس گھنٹے مریضوں پر نظر رکھنے والے کم خرچ اسٹیکر تیار

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ماہرین نے ڈاک ٹکٹ جتنے برقی اسٹیکر تیار کیے ہیں جو دل کے مانیٹر کی طرح 24 گھنٹے اور سات دن مریضوں کی صحت پر نظر رکھ سکیں گے۔یونیورسٹی آف ٹیکساس کے کاک ریل اسکول آف انجینیئرنگ کے ماہرین کے مطابق صرف 100 روپے میں ایسے اسٹیکر تیار کرنا ممکن ہے جسے جسم پر چپکا کر دل کی دھڑکن، دماغی سرگرمی، درجہ حرارت، جسم میں پانی کی موجودگی اور دیگر اہم معلومات کا مسلسل ڈیٹا لیا جاسکے گا۔ ایک نئے طریقے کے ذریعے ان اسٹیکروں کو اب دنوں کی بجائے صرف چند منٹوں میں تیار کیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں کثیر تعداد میں تیار کرکے مریضوں پر چسپاں کیا جاسکے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت میڈیکل آلات مثلاً ای سی جی اور ای کے جی کے مقابلے میں یہ اسٹیکر ذیادہ مو¿ثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک مریض کے دل پر اور دیگر جگہوں پر ایسے اسٹیکر لگا کر24 گھنٹے ای سی جی حاصل کی جاسکے گی اور اسی طرح دماغی کیفیت کا جائزہ بھی لیا جاسکے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل انہیں بنانا اور طویل، مہنگا اور اکتادینے والا کام تھا۔ لیکن جرنل آف ایڈوانسڈ مٹیریلز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایک نئی تکنیک کے ذریعے اسٹیکر تیار کیا گیا ہے اور اسے بنانے کے لیے مہنگے اور صاف ترین کمروں کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی خصوصی آلات درکار ہوتے ہیں اور یہ طریقہ تھری ڈی پرنٹنگ کی طرح ہے جس میں الیکٹرانک سرکٹ براہِ راست کسی ٹیپ یا چپکنے والے مادے پر چھاپے جاسکتے ہیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں یہ ٹیٹو تیار کیے جاسکتے ہیں جس سے صحت کی صنعت میں ایک انقلاب آجائے گا اور انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…