پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

علم طب کا کارنامہ، 7 سالہ بچی کو نئی کھوپڑی لگا دی

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )تین سال قبل اس سات سالہ بچی گریس کابیلنگا کو بہت بری طرح انفیکشن ہو گیا تھا جس کے باعث ڈاکٹروں نے اس کے دماغ کی کھوپڑی کا بہت سا حصہ الگ کر دیا تھا۔ لیکن اب ڈاکٹروں نے تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے اس کی کھوپڑی کا کامیاب آپریشن اسے دوبارہ ٹھیک کر دیا ہے جس سے گمان ہی نہیں ہوتا۔ گریس کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کے کامیاب آپریشن اور حصت یابی پر بہت خوش ہیں۔ ہمیں یقین ہی نہیں ہو رہا کہ ہماری بیٹی مکمل ٹھیک ہو گئی ہے۔اس بچی کا آپریشن جنوبی افریقا کے دارالحکومت کیپ ٹاو¿ن میں ہوا تھا۔ ڈاکٹروں نے سی ٹی سکین کے بعد تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے گریس کے سائز کی مصنوعی کھوپڑی بنائی تھی۔

*** EXCLUSIVE - VIDEO AVAILABLE *** UNKNOWN - UNDATED: Grace Kabelenga after her first surgery to reconstruct her face. She was left without a large section of her skull to prevent infection. A seven-year-old girl born with a cranio-facial abnormality has undergone pioneering surgery to fill a huge hole in her forehead using 3D printed technology. Grace Kabelenga had surgery at four years old to correct her facial deformity - but a large section of her skull was removed to prevent infection. As a result Grace from Ndola, Zambia, has never been to school and is not allowed to play with other children as she is desperately prone to infections. Just falling over or being touched in the wrong place could have killed her, as the entire front section of her skull was missing and her brain was completely unprotected under the skin of her forehead. Now Grace has undergone state of the art surgery in South Africa to have a specially constructed forehead implanted into her skull to encourage the bone to grow. Graceís unique facial condition developed in the womb and her parents Ngula and Elijah desperately sought medical attention upon her birth. PHOTOGRAPH BY TLC / Barcroft Productions UK Office, London. T +44 845 370 2233 W www.barcroftmedia.com USA Office, New York City. T +1 212 796 2458 W www.barcroftusa.com Indian Office, Delhi. T +91 11 4053 2429 W www.barcroftindia.com
گریس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کینیتھ سیلیر کا کہنا ہے کہ اس بچی کی جان بچانے کیلئے یہ آپریشن کرنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس کا بچنا مشکل تھا۔ واضع رہے کہ گریس جب پیدا ہوئی تو قردتی طور پر اس کے ہونٹ اور ناک کٹے ہوئے تھے۔ طبی ماہرین اس آپریشن کو طب کی دنیا کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…