جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

جاپان, جوہری پاور پلانٹ کے حادثے کے بعد کینسر کی وباءپھوٹ پڑی

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جاپان میں چار سال قبل پیش آنے والے فوکو شیما جوہری پاور پلانٹ کے حادثے کے بعد سے اس مقام کے نواحی علاقوں کے رہنے والے بچوں میں تھائی رائیڈ کینسر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے فوکو شیما پاور پلانٹ کے قریبی علاقوں میں رہنے والے بچوں میں تھائی رائیڈ کینسر کی شرح دیگر علاقوں کی نسبت بیس سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ یہ تعداد اس وجہ سے زیادہ ہے کہ اس علاقے میں سخت نگرانی کرتے ہوئے تقریباً ہر بچے کا چیک اپ کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فوکوشیما صوبے میں 2011ءمیں اس حادثے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر تین لاکھ ستر ہزار بچوں کا الٹراساونڈ چیک اپ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین اعداد و شمار رواں برس اگست میں جاری کیے گئے، جن کے مطابق تھائی رائیڈ کینسر کے 137 مشتبہ اور تصدیق شدہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو کہ ماضی کی نسبت پچیس فیصد زائد ہیں۔ یہ نئی تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور اوکیاما یونیورسٹی کے پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا ہے، ”ایسے کیسز توقع سے زیادہ ہیں اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ عام توقعات سے بیس سے پچاس فیصد زائد ہیں۔“ یہ تازہ تحقیق رواں ہفتے آن لائن جاری کی گئی ہے جبکہ نومبر میں یہ ورجینیا کے بین الاقوامی ماحولیاتی جریدے میں بھی شائع کی جائے گی۔ اس تحقیق میں ان اعداد و شمار کو جمع کیا گیا ہے، جو فوکوشیما میڈیکل یونیورسٹی نے جمع کیے تھے۔ اس حادثے کے بعد جاپانی حکومت سرکاری اور سرکردہ ڈاکٹروں کو فوکوشیما کے علاقے میں لائی تھی، جن کا کہنا تھا کہ موجودہ تابکاری کے نتیجے میں کسی بھی بیماری کا خطرہ نہیں ہے۔ حکومت کے مطابق تھائی رائیڈ چیک صرف اور صرف احتیاط کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔ اس موقف کے برعکس اوکیاما یونیورسٹی کے پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا ہے کہ الٹرا ساو¿نڈ چیک اپس جاری ہیں لیکن ان کے نتائج سے حکومتی موقف پر شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تھائی رائیڈ کینسر وہ بیماری ہے، جس کا تعلق میڈیکل سائنس، ریڈیو ایکٹو مادوںکی تابکاری سے جوڑتی ہے۔ پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…