پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

شعبہ طب کے لیے 3 سائنسدانوںنے نوبل انعام اپنے نام کر لیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے شعبہ طب کے لیے 3 سائنسدانوں ولیم سی کیمپبیل ، ساتوشی اومورا اور یویو ٹو کو ”طفیلی جانداروں“ (پیراسائٹس) کے ذریعے ہونے والی بیماریوں کے خلاف انقلابی ادویات کی تیاری پر نوبل انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر کیمپبیل جو ”مرک انسیٹیوٹ فار تھیراپیوٹک ریسرچ“ میں پچھلے 10سال سے کام کر رہے تھے اور اب وہ ڈرییو یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں اور ڈکٹر امورا جو امیرٹس کیتاساٹویونیورسٹی میں پروفیسر ہیں نے ایک دوائی ”ایورمیکٹن“ دریافت کی جو فوری طور پہ ”ریور بلائنڈنس“ نامی بیماری کے اثرات کو کم کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر امورا ایک مائیکروبائیولوجسٹ ہیں۔ انہوں نے ایک بیکٹیریا ’سٹرپٹومائی سیس‘ پہ تجربات کیے اور ’ایورمیکٹن‘ کا حامل بیکٹیریا حاصل کر لیا۔ڈاکٹر کیمپبیل جو پیراسائٹ بائیولوجی کے ایک ماہر ہیں، نے جانوروں پہ ڈاکٹر امورا کی تیار کردہ ’ایورمکٹن‘ کواستعمال کرتے ہوئے کامیاب تجربات کیے اور اس فارمولا میںکچھ کیمیائی تبدیلیاں کر کے اسے ایورمیکٹن کا نام دیا ہے۔
اس انعام میں ان کے شریک ’ڈاکٹریویوٹو‘ ہیں جو چین کی اکیڈمی آف ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن میں محقق ہیں۔ ڈاکٹر یویو ٹو نے 2011 میں ’آرٹی میسینن‘ درےافت کی جو ملیریاکے علاج کے مفید دوا ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر یویوٹو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے ایک جڑی بوٹی جس کا نام ’سویٹ وار م وڈ‘ ہے اور جو قدیم زمانے میں بھی بخار کے علاج لیے استعمال ہوتی تھی، پر تجربات کیے اور ایسا طریقہ درےافت کیا جس سے موثر ’آرٹی میسنین‘ حاصل کی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…