منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

شعبہ طب کے لیے 3 سائنسدانوںنے نوبل انعام اپنے نام کر لیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے شعبہ طب کے لیے 3 سائنسدانوں ولیم سی کیمپبیل ، ساتوشی اومورا اور یویو ٹو کو ”طفیلی جانداروں“ (پیراسائٹس) کے ذریعے ہونے والی بیماریوں کے خلاف انقلابی ادویات کی تیاری پر نوبل انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر کیمپبیل جو ”مرک انسیٹیوٹ فار تھیراپیوٹک ریسرچ“ میں پچھلے 10سال سے کام کر رہے تھے اور اب وہ ڈرییو یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں اور ڈکٹر امورا جو امیرٹس کیتاساٹویونیورسٹی میں پروفیسر ہیں نے ایک دوائی ”ایورمیکٹن“ دریافت کی جو فوری طور پہ ”ریور بلائنڈنس“ نامی بیماری کے اثرات کو کم کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر امورا ایک مائیکروبائیولوجسٹ ہیں۔ انہوں نے ایک بیکٹیریا ’سٹرپٹومائی سیس‘ پہ تجربات کیے اور ’ایورمیکٹن‘ کا حامل بیکٹیریا حاصل کر لیا۔ڈاکٹر کیمپبیل جو پیراسائٹ بائیولوجی کے ایک ماہر ہیں، نے جانوروں پہ ڈاکٹر امورا کی تیار کردہ ’ایورمکٹن‘ کواستعمال کرتے ہوئے کامیاب تجربات کیے اور اس فارمولا میںکچھ کیمیائی تبدیلیاں کر کے اسے ایورمیکٹن کا نام دیا ہے۔
اس انعام میں ان کے شریک ’ڈاکٹریویوٹو‘ ہیں جو چین کی اکیڈمی آف ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن میں محقق ہیں۔ ڈاکٹر یویو ٹو نے 2011 میں ’آرٹی میسینن‘ درےافت کی جو ملیریاکے علاج کے مفید دوا ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر یویوٹو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے ایک جڑی بوٹی جس کا نام ’سویٹ وار م وڈ‘ ہے اور جو قدیم زمانے میں بھی بخار کے علاج لیے استعمال ہوتی تھی، پر تجربات کیے اور ایسا طریقہ درےافت کیا جس سے موثر ’آرٹی میسنین‘ حاصل کی جا سکے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…