لندن(نیوز ڈیسک) ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھیلتی ہیں وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔
آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے جس میں آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں، ویڈیو گیم بھی اس ٹیکنالوجی کی دنیا کی انوکھی ایجاد ہے جس نے اپنے سحر میں بچوں سے لےکر بڑوں تک کو جکڑا ہوا ہے اور ویڈیو گیم کھیلنا کس کو پسند نہیں ہے، چاہے بچے ہوں یابوڑھے، نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب ہی ویڈیو گیم کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن ایسی خواتین جو ویڈیو گیم کھیلتی ہیں ہوجائیں ہوشیار کیونکہ ویڈیو گیم کھیلنے کی وجہ سے وہ موٹی ہوسکتی ہیں۔
لندن میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے جو لڑکیاں روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھلیتی ہیں ان میں موٹاپے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب کہ جو خواتین روزانہ دن میں 2 گھنٹے ویڈیو گیم کھیلنے کو ترجیح دیتی ہیں ایسی خواتین مزید موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ محققین نے اس تحقیق کے لیے 2500 سے زائد 20 سال کی عمر کے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو روزانہ ویڈیو گیم کھیلتے تھے تاہم کچھ عرصے بعد خواتین کے وزن میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ مردوں پر اس کا کوئی اثر رونما نہیں ہوا۔
روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھیلنے سے لڑکیاں موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں، تحقیق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا



















































