پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

زندگی کو خوشگوار اور طویل کیسے بنایا جاسکتا ہے

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )چند اہم سماجی رویوں کو اپنا کرزندگی کو خوشگوار اور طویل بنایا جاسکتا ہے، ماہرین کے مطابق غذا اور ورزش سے ہٹ کر بھی بہت سے ایسے امور ہیں جو زندگی کو صحت بھرا رنگ دے کر طویل زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
شادی کا بندھن:
نفسیات دانوں کے مطابق رشتہ اذدواج میں منسلک ہونے کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طویل عمر کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریکِ حیات کی مدد سے زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہےاور پھر اولاد کی وجہ سے عملی جدہوجہد کا ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں ڈیوک یونیورسٹی نے 4,802 افراد کے مطالعے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ شادی شدہ افراد میں وقت سے پہلے اموات کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور ان میں دل کے دورے اور اسٹروک کے امکانات بھی 20 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں ، اسی لیے جیون ساتھی کی ساتھ آپ کی طویل زندگی کی وجہ بن سکتا ہے۔
ذہنی تناو¿ سے دور رہیں:
2015 میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، سان فرانسسکو کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو خواتین بات بات پراداسی اور ذہنی دباو¿ کی شکار ہوتی ہیں ان میں کلوتھو ہارمون کی سطح کم ہوجاتی ہے جو دل و دماغ پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور بیماریوں کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اداس رہنے والے افراد میں دل کے دورے کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی لیے ذہنی تناو¿ کو خیرباد کہہ کر نئی خوشیوں بھری زندگی شروع کیجئے۔
دوست بنائیے اور خوش رہیے:
حال ہی میں بِرگھم ینگ یونیورسٹی میں کئے گئے ایک سروے کے بعد انکشاف ہوا کہ دوستوں سے بات کرنے اور محفل میں بیٹھنے سے جسم پر ویسے ہی اثرات ہوتے ہیں جو درد دور کرنے والی دواو¿ں سے ہوتےہیں۔ الگ تھلگ رہنے والے افراد کو بیماریوں کا اتنا ہی خطرہ رہتا ہے جتنا بہت موٹے افراد کو ہوتا ہے، دوستوں میں بیٹھنے اور بات چیت کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں۔
سفید سلائس سے پرہیز:
جو، رائی اور مکمل گندم کا استعمال جاری رکھیے اور سفید سلائس (روٹی) کے مقابلے میں ان کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس میں پولی فینولز اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو قبل ازوقت موت کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کرتے ہیں۔ اپنی غذا میں ان اشیا کا استعمال امراضِ قلب، ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔
باقاعدگی سے جاگنگ:
امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے مطابق ہفتے میں 60 سے 144 منٹ تک دوڑنے سے دل اور صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے مطابق 12 سال تک 10 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا جو لوگ جتنی دیر تک دوڑے انہیں اتنا ہی فائدہ ہوا، دوڑنے سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور دل پر اس ک بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
زندگی کو بامقصد بنائیے:
ذرا سوچیے کہ آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ اگر نہیں ہے تو اس مقصد کو تلاش کیجیے، تحقیقی جرنل لینسٹ کے مطابق 9 ہزار افراد کو شریک کرکے ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا،جن لوگوں کی زندگی بامعنی تھی وہ اوسط دوسرے لوگوں کے مقابلے میں 8 سال تک ذیادہ جیے۔ اس کی وجہ یہ ہے بامقصد زندگی آپ کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے اور اس کے دل و دماغ پر بہت مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر وقت پرامید رہنے والے افراد بھی طویل عمر پاتے ہیں۔
موٹاپے کو دور رکھیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…