اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کیڑے مار دوا لنڈین سے کینسرکاخطرہ ،ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن

datetime 24  جون‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا کینسر کا موجب بنتی ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ ڈی ڈی ٹی اور ٹو فور ڈی نامی کیڑے مار ادویات بھی شاید کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کے ماہرین کے پینل نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا انسانوں میں لیمفوفا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔لنڈین اب بھی کئی ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے۔کینیڈا، انڈیا، چین اور امریکہ میں لنڈین کے اجزا اب بھی جوو¿ں اور سر میں کھجلی کے علاج کے لیے تیار ہونے ادویات میں استمعال کیے جاتے ہیں۔آئی اے آر سی مزید اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ڈی ڈی ٹی اور ٹو فور ڈی بھی شاید انسانوں میں کینسرکا سبب بن سکتی ہیں۔ڈی ڈی ٹی کا استعمال 1970 سے بند ہو چکا ہے، لیکن یہ اب بھی انسانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی ٹی کے اثرات لمبے عرصے تک ماحول اور انسانوں میں رہ سکتے ہیں .ٹو فور ڈی جسے 1945 میں متعارف کرایاگیا تھا اور اس وقت سے فصلوں میں جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے علاوہ جنگلات اور شہری رہائشی علاقوں میں کیڑے مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہروں میں اس کیڑے مار دوا کے چھڑکاو¿ کے مضمر اثرات خوراک، پانی اور گرد کے ذریعے انسانوں تک پہنچتے ہیں۔آئی اے آر سی کے سربراہ ڈاکٹر کرٹ سٹرییف کا کہنا ہے لنڈین سے متعلق زیادہ شہادتیں ایسے زرعی کارکنوں کی ہیں جن کا سامنا اس کیڑے مار دوا سے ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے زرعی کارکن جنھیں لنڈین کا سامنا ہے ان میں کینسر کے مرض میں لاحق ہونے کے امکانات 50 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔لنڈین کا استعمال اب بہت محدود ہو چکا ہے اور اب اسے جوو¿ں اور سر میں کھجلی کے علاج کے لیے تیار ہونے والی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے انسان متاثر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…