اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سحری میں پروٹین سے بھرپور خوراک لی جائے،ماہرین صحت

datetime 22  جون‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)ماہرین صحت نے مشورہ دیاہے کہ روزے دار افطار و سحر میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور ریشہ سے بھرپور غذا لیں لیکن اوپر تلے کئی چیزیں نہ کھائیں۔اس مرتبہ15 گھنٹے سے زیادہ دورانیہ کا روزہ ہے، چنانچہ میں اپنی خوراک کا پورا خیال رکھنا چاہیے، سحری میں پروٹین سے بھرپور خوراک لی جائے جس دن بھر آپ کو بھوک کا احساس بھی نہ ہو اور کمزوری بھی محسوس نہ ہو۔سحری میں شوربے والے سالن استعمال کریں جس میں تیل اور مسالا کم ہو، جو باآسانی ہضم ہوسکے۔ کوشش کریں کہ غذا میں ریشہ کا زیادہ استعمال ہو، مثلاًپھل اور ہری سبزیوں کا استعمال کریں کیونکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں، اور ان کے استعمال سے دن میں پیٹ خالی محسوس نہیں ہوتا۔ اور ان کے ذریعے جسم کو پانی بھی مہیاہوتا رہتا ہے۔افطار کے وقت کھجور اور پھل کا زیادہ استعمال کیا جائے اور فوراً پانی نہ پیا جائے۔ آم اور کھجور کے ملک شیک لیں اور شربت کا استعمال کریں۔رمضان کے مہینے میں مکمل نامیاتی سائیکل تبدیل ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور میں کوئی بھی 100 فیصد صحتمند نہیں ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ سحری اور افطار دونوں وقت احتیاط سے کھائیں اور خوراک کی زیادہ مقدار استعمال نہ کی جائے۔سحری میں وقت سے قبل بیدار ہوں تاکہ وقت کم ہونے کی وجہ سے بے صبری اور جلدی جلدی میں نہ کھانا پڑے، سحری میں بھی ایک کے اوپر ایک چیز بالکل نہیں کھانی چاہیے۔سخت گرمی کے موسم میں جسم کو پانی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے پانی بھی پوری مقدار میں پیا جائے، لیکن ایک ساتھ ایک دو لیٹر پانی پینے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے پیئیں۔دن میں براہ راست دھوپ میں نکلنے سے بچیں اور جہاں تک ممکن ہو سخت مشقت والا کام نہ کریں، تاکہ توانائی برقرار رہے، اس کے ساتھ اگر ممکن ہو تو دن میں ایک دو گھنٹہ کی نیند ضرور لیں۔ماہرین غذائیات افطار کے وقت بھی خود پر کنٹرول رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ افطار میں کولڈرنکس، جنک فوڈ اور کیفین پر مشتمل خوراک مثلاً چائے کافی کا استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے پیاس بڑھ جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…