اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

نیند کی خرابی ،دل کے دورے یافالج کاخطرہ

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )ایک رات کی خراب نیند بھی دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔یہ انتباہ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک تحقیق میں کیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی تحقیق کے مطابق جو لوگ رات بھر 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 4 گنا جبکہ دل کے دورے کا امکان دوگنا بڑھ جاتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے حوالے سے اتنی ہی مضر ہے جتنی تمباکو نوشی یا ورزش سے دوری۔پروفیسر ویلری گافاروف کے مطابق نیند میں کمی بیشی صرف دن بھر تھکاوٹ یا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ دل کے دورے اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کم نیند کو تمباکو نوشی، کم ورزش اور ناقص غذا کے استعمال جیسا ہی خطرہ سمجھنا چاہئے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ رات بھر کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند ضروری ہے اور جن افرادکو سونے میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے انہیں اپنے ڈاکٹر سے جوع کرنا چاہئے۔اس تحقیق کے دوران ڈبلیو ایچ او نے 25 سے 64 سال کی عمر کے667 مردوں میں خون کی شریانوں سے متعلق امراض کی وجوہات کا جائزہ لیا جن کے خاندان میں پہلے کبھی دل کے دورے، فالج یا ذیابیطس کی تاریخ موجود نہیں تھی۔اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ دل کے دورے کے شکار ہونے والے دوتہائی افراد نیند کی کمی کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…