اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

شدید فاقہ کشی والے ورزشی منصوبے موٹاپا کم کرنے میں معاون ثابت ہو تاہے

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) عام خیال یہی ہے کہ اعتدال پسندی کا فارمولہ موثر ڈائیٹنگ کیلئے ضروری ہے، دوسری صورت میں ڈائیٹنگ کے اثرات، یہ عادت ترک کرتے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف سڈنی کے ماہرین نے تحقیق سے اس خیال کی نفی کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ سخت ڈائیٹنگ یا نیم فاقہ کشی ڈائیٹنگ کو موثر بنانے میں نہ صرف معاون ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم توانائی فراہم کرنے والے ڈائیٹنگ پروگرامز جن میں کھانے کی جگہ پر عام طور پر پروٹین شیکس وغیرہ استعمال کئے جاتے ہیں، ڈائیٹنگ کیلئے بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں۔
تاحال ماہرین نے کھانا ترک کرتے ہوئے لیکوئیڈز پر مشتمل ڈائیٹنگ پروگرامز کی ہمیشہ نفی کی ہے کیونکہ یہی خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے پروگرامز کھانے پینے کی عادت کو مزید بگاڑ کے خراب کرتے ہیں تاہم یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والی چارلز پرکنز سنٹر سے تعلق رکھنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر امانڈا سیلز کہتی ہیں کہ عام خیال کے برعکس ڈائیٹنگ کے طریقہ کار پر جتنی بھی تحقیقات کی گئی ہیں، ان تمام سے یہی معلوم ہوا کہ کھانے پینے میں بے احتیاطی کرنے والے افراد جب ڈائیٹنگ شروع کرتے ہیں تو اپنے کھانے پینے کے معمولات کو بہتر بنا لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ ڈائیٹنگ چھوڑنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ موٹے افراد جو کہ ڈائیٹنگ سے قبل بھی کھانے پینے کے معاملات میں لاپرواہ نہیں تھے، وہ ڈائیٹنگ چھوڑنے کے بعد بھی کسی قسم کی لاپرواہی اختیار نہیں کرتے ہیں۔ صرف ناقص معیار کی چند تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ دس سے پندرہ فیصد ڈائیٹرز ڈائیٹنگ ترک کرنے کے بعد کھانے پینے میں احتیاط پسندی سے کام لینا ترک کردیتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ باقاعدہ ماہرین کی نگرانی میں مکمل کئے جانے والے ڈائیٹنگ منصوبے زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ خاص کر ماہرین کی نگرانی میں لو انرجی ڈائیٹنگ پروگرامز پر عمل درآمد موٹاپے کیخلاف زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر لو انرجی ڈائیٹنگ پروگرامز میں موٹاپا کم کرنے کے خواہشمند افراد تین ہزار کیلوریز جو کہ ان کے جسم کی اصل ضرورت ہوتی ہیں، اس سے پچیسس سے پچاس فیصد تک کم کیلوریز کی حامل خوراک لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…