منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

اپریل اور نومبر میں پیدا ہونے والے افرادسنگین نوعیت کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں،تحقیق

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ تاریخ پیدائش کا محض مزا ج اور شخصیت پر ہی اثر نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ وقت آئندہ برس میں بیماریوں کی شرح کا تعین بھی کرتا ہے۔ اپریل اور نومبر میں پیدا ہونے والے افراد دیگر ماہ میں پیدا ہونے والوں کے مقابلوں میں زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ماہرین نے کل55 بیماریوں کا پیدائش کے ماہ سے تعلق دریافت کیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے1985سے2013کے بیچ نیویارک کے دو بڑے ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے والے کل سترہ لاکھ افراد کی بیماریوں کا انتخاب کیا تھا۔ یہ کل1638بیماریاں تھیں، اس کے بعد ان افراد کی میڈیکل ہسٹری اور تاریخ پیدائش کا موازنہ کیا گیا۔ تحقیق سے کل1600بیماریوں کا تاریخ پیدائش سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکتا تاہم39بیماریاں جن کی تصدیق ماضی میں دستیاب تحقیقی مواد بھی کرتا ہے، تاریخ پیدائش کے ساتھ گہرے تعلق کی حامل پائی گئیں۔ ان 39بیماریوں کے علاوہ ماہرین نے 16نئی بیماریاں بھی دریافت کیں جن کا تاریخ پیدائش سے تعلق ثابت ہوا۔ ان میں سے نو کا تعلق دل سے تھا۔ تحقیق سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ مئی میں پیدا ہونے والے بچوں کے بیماریوں کا شکار ہونے کا امکان سب سے کم ہوتا ہے جبکہ اکتوبر میں پیدا ہونے والے بچوں میں یہ خطرہ سب سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے قبل اے ڈی ایچ ڈی اور دمہ کے مریضوں کے مواد کی روشنی میں ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ ان دو بیماریوں کا پیدائش کے ماہ سے تعلق ہونے کا امکان ہے تاہم بڑے پیمانے پر تحقیقی مواد دستیاب نہ ہونے کے سبب اس دعوے کی تصدیق نہ ہوسکی تھی۔ حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ جولائی اور اکتوبر میں پیدا ہونے والے بچوں میں دمہ کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے قبل ڈنمارک میں کی گئی ایک تحقیق میں مئی اور اگست میں پیدا ہونے والے بچوں میں یہ خطرہ پایا گیا تھا۔ دونوں تحقیقات میں دعوے مختلف ہیں تاہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست تسلیم کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ڈنمارک میں مئی اور اگست میں سورج کی روشنی کی سطح نیویارک میں جولائی اور اکتوبر میں سورج کی روشنی کی سطح کے یکساں ہوتی ہے۔ نومبر میں پیدا ہونے والے بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔

مزید پڑھئے:جھوٹ کون زیادہ بولتاہے،مرد یا عورت؟

اس سے قبل سوئیڈن کی ایک تحقیق میں بھی نومبر کو اے ڈی ایچ ڈی کے حوالے سے خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ جنوری میں پیدا ہونے والوں میں ہائیپر تینشن ، جبکہ اپریل مین پیدا ہونے والوں میں انجائنا کا خطرہ پایا گیا۔تحقیق کے بعد ماہرین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ خطرات عمر بھر ساتھ رہتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ بیماریوں اور پیدائش کے بیچ تعلق کی اصل وجہ دراصل بچے میں بڑھوتری کا عمل ہے جو کہ موسم سے متاثر ہوتا ہے۔ خیال ہے کہ اس تحقیق کی مدد سے ماہرین مختلف بیماریوں سے لاحق خطرات کے حوالے سے نئی تحقیقات کرسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…