اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

منہ صابن سے نہیں پیار سے دھوئیں

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) عام طور پر جلد کی نگہداشت کیلئے جلد کی قسم کے حساب سے مصنوعات کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے تاہم سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ جلد کی حفاظت کیلئے مناسب مصنوعات کے استعمال سے زیادہ ضروری طریقہ استعمال پر توجہ دینا ہے۔ مہنگے سے مہنگے پراڈکٹس کے استعمال کا طریقہ بھی اگر ٹھیک نہیں ہوگا تو جلد کی نگہداشت کے بجائے اس کی تباہی کا سبب ہوگا۔ یہاں ماہرین کی طریقہ استعمال سے مراد ہاتھوں کی حرکت ہے۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی میں مالیکیولر بائیولوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مک ہال وینگر کا کہنا ہے کہ ہاتھوں کی حرکت جلد کی بیرونی سطح پر موجود خلیوں کی حفاظت کیلئے بے حد اہم ہوتی ہے۔ جب جلد پر کسی سخت سی چیز سے چوٹ لگتی ہے تو جلد سرخ پڑتی ہے۔ دراصل یہ خلیوں کا ردعمل ہوتا ہے۔ اگر یہ چوٹ زیادہ شدید ہوتو ایسے میں خلیئے اس قابل نہیں رہتے کہ وہ بیرونی سطح پر ہونے والے اس حملے کیخلاف مزاحمت کرسکیں اور یہ بنا مزاحمت ہی مردہ ہونے لگتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں

مزید پڑھئے:آسٹریلوی ماہرین: چھوٹی مچھلی سے خوفزدہ

کہ خلیوں کی زندگی محدود دورانئے کی ہوتی ہے تاہم قدرتی عمل کے دوران یہ خلئے جس رفتار سے ختم ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…