اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ایسی غذائیں جن میں سے ایک کو زندگی کا حصہ ضروربنانا چاہیے

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )عام تاثر ہے کہ چکنائی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تاہم ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ چکنائی کی ایک خاص مقدار جسمانی صحت اور جلد کے لئے مفید ہوتی ہے۔چکنائی سے بھرپور اشیا دل کے امراض کا باعث بن سکتی ہیں لیکن چکنائی کی خاص مقدار کا استعمال دل کی بیماریوں سے حفاظت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق کسی بھی شخص کو کم چکنائی والی اشیا سے دن میں 20 سے 35 فیصد کیلریز درکار ہوتی ہیں جب کہ ایک تندرست انسان چکنائی سے بھرپوراشیا سے 10 فیصد سے کم کیلریز لیتا ہے۔ تندرست اور موٹاپے سے نجات کے لئے اگر درج ذیل 6 اشیا میں سے کسی بھی ایک کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ خود کو پرکشش اور تندرست رکھ سکتے ہیں۔
بادام : کیلریز کے اعتبار سے بادام ایک مفید غذا ہے اور ایک اونس بادام کا روزانہ استعمال آپ کو 14 گرام چکنائی دیتا ہے جو دن بھر کی جسمانی ضرورت کے لئے کافی ہے۔
ناشپاتی : آدھا ناشپاتی اپنے اندر 15 گرام تک چکنائی رکھتا ہے اس لئے ناشپاتی کا استعمال دن بھر کی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مچھلی : جسم میں چکنائی کی مقدار پوری کرنے کے لئے مچھلی سب سے مفید غذا ہے اس لئے ہفتے میں ایک بار مچھلی کا استعمال آپ کو جسمانی طور پر چست رکھ سکتا ہے۔
انڈا : ایک انڈے میں 5 گرام تک چکنائی ہوتی ہے جو جسم کو 45 کیلریز فراہم کرتا ہے اس لئے انڈے کا استعمال جسم کو مطلوب کیلریز فراہم کرتا ہے۔
السی : السی کا ایک چائے کا چمچہ آپ کو 4 گرام تک چکنائی فراہم کرتا ہے جس میں 36 کیلریز ہوتی ہیں۔ اس طرح السی کا ایک چائے کا چمچہ جسم کو درکار چکنائی کے لئے کافی ہے۔زیتون کا تیل : زیتون کا تیل یا کم از کم 10 زیتون جسم کو 5 گرام تک چکنائی کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔انسانی جسم کو روزانہ درکارکیلریز کا پیمانہ کچھ اس طرح ہے، ایک گرام چکنائی میں کیلریزکی مقدار9 ہوتی ہے اور دن بھر میں ایک تندرست شخص کو 2 ہزارکیلریز درکارہوتی ہیں جو 44 سے 78 گرام تک چکنائی والی اشیا سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…