اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جنوبی کوریا :مرس نامی وائرس سے چھٹی ہلاکت

datetime 8  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )جنوبی کوریا میں مڈل ایسٹ ریسپریٹری سنڈروم سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہوگئی ہے جبکہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اتوار کو جنوبی کوریائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مزید 23 افراد میں یہ وائرس پایا گیا ہے یوں اب ملک میں مرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 87 ہوگئی ہے۔یہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر کسی ملک میں ’مرس‘ کے پھیلاو¿ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔جنوبی کوریا میں اب تک 2300 افراد کو مرس کے مریضوں کے رابطے میں رہنے کی وجہ سے زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے جبکہ 1900 سکول بند کر دیے گئے ہیں۔پیر کی صبح ایک 80 سالہ شخص اس بیماری کی وجہ سے دارالحکومت سیﺅل کے جنوب میں دائجیون کے علاقے میں ہلاک ہوا۔یہ ملک میں اس بیماری سے ہونے والی چھٹی ہلاکت ہے۔جنوبی کوریا میں مرس کے پھیلاو¿ کی وجہ سے شہری خوف کا شکار ہیں اور بغیر ماسک پہنے گھر سے نہیں نکل رہےاس سے قبل سنیچر کو بھی ایک 75 سالہ شخص سیﺅل میں ہی اس وائرس کا شکار بنا تھا۔وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ نئے 23 مریضوں میں سے 17 کا تعلق اسی سام سنگ میڈیکل سنٹر سے ہے جہاں یہ شخص بھی زیر علاج تھا۔جنوبی کوریا میں مرس کے پھیلاو¿ کی وجہ سے شہری خوف کا شکار ہیں اور بغیر ماسک پہنے گھر سے نہیں نکل رہے۔مرس یا ’مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم‘ مشرق وسطی کے تنفس کے مسائل کا مخفف ہے یعنی یہ مرض اس علاقے سے مخصوص ہے۔اس بیماری کے سب سے زیادہ معاملے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں سامنے آئے ہیں.مرس کے نئے 23 مریضوں میں سے 17 کا تعلق سام سنگ میڈیکل سنٹر سے ہےمرس سے سب سے پہلی موت جون 2012 میں سعودی عرب میں ہوئی تھی۔دنیا بھر میں مرس کے اب تک 1167 کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے 479 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ایشیا میں اس سے پہلے مرس سے موت کا سب سے پہلا معاملہ ملائیشیا میں سامنے آیا تھا جہاں سعودی عرب سے واپس آنے والا ایک شخص اپریل میں انتقال کر گیا تھا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس انفیکشن کی زد میں آنے والے مریضوں میں سے 27 فیصد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…