اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بریسٹ کینسر کی تشخیص :میموگرافی خواتین کی زندگی بچانے میں اہم ہوسکتا ہے

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بریسٹ کینسر کی تشخیص کیلئے کیا جانے والا ٹیسٹ میموگرافی خواتین کی زندگی بچانے میں بے حد اہم ہوسکتا ہے۔ اس امر کا انکشاف امریکی ماہرین کیا ہے جن کے مطابق صرف میموگرافی کے عمل سے گزرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ ہے کہ خواتین نے بریسٹ کینسر کا شکار ہونے کے امکانات کو 23فیصد تک کم کردیا ہے۔ ایکسرے کی مانند کیئے جانے والے اس ٹیسٹ کو بریسٹ کینسر کیخلاف موثر ہتھیار قرار دینے کی وجہ دراصل یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے کینسر کی ابتدائی ترین سطح پر بھی تشخیص ممکن ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بہت سی خواتین کی بروقت جان بچائی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں تحقیق کے مطابق 50برس سے69برس کے بیچ کی خواتین جو میموگرافی کے عمل سے گزر چکی ہوں، ان میں ان خواتین کی نسبت بریسٹ کینسر کا شکار ہونے کا خطرہ چالیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے جو کہ اس ٹیسٹ سے کبھی نہیں گزری ہوتی ہیں۔ امریکی ماہرین کی یہ تحقیق نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کی گئی ہے۔تحقیق میں شامل سٹیفن ڈفی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کیلئے انہوں نے 16ممالک کے محققین کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ان افراد نے بریسٹ کینسر کی تشخیص کیلئے استعمال کئے جانے والے مختلف قسم کے ٹیسٹ کا جائزہ لیا تھا۔ اس مقصد کیلئے کل گیارہ ٹیسٹ اور چالیس سے زائد تجزیئے کیے گئے جس کے بعد ماہرین نے دعویٰ کیا کہ میمو گرافی ٹیسٹ کی مدد سے بریسٹ کینسر کے آثار کی ابتدائی مرحلے پر ہی تشخیص ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان خواتین کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اس تحقیق میں میموگرافی کا عمر سے تعلق بھی ثابت ہوا ہے۔ ماہرین نے جانا کہ پچاس برس سے ستر برس کی خواتین میں میموگرافی سب سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ ستر برس سے اوپر کی خواتین کیلئے بھی میموگرافی کارآمد ہوتی ہے تاہم چالیس بر س سے پچاس برس کے بیچ کی خواتین میں میموگرافی زیادہ موثر نہیں ہوتی ہے۔ ماہرین نے اس تحقیق کے ہمراہ یہ تجویز بھی دی ہے کہ میموگرافی کو مزید موثر بنانے کیلئے تھری ڈی ٹیکنالوجی کا سہارا بھی لیا جانا چاہئے کیونکہ میموگرافی میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کا استعمال چھاتی کے اندر کے گھنے ٹشوز کو بھی زیادہ واضح طور پر دیکھنے کے قابل بناتی ہے جس کی وجہ سے کینسر کے امکانات کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…