اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نگلیریا کا خطرہ،غیرمحفوظ سوئمنگ پولزفوری بند کرنےکا فیصلہ

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کمشنر نے واٹر بورڈ کی جانب سے نگلیریا کی روک تھام کیلیے کیے جانے والے اقدامات اورپانی کی کلورینشن کی صورتحال کو غیراطمینان بخش اور ناکافی قراردے دیا ،کمشنرشعیب احمد صدیقی کی صدارت اجلاس میں نگلیریا اور ڈنگی سے بچاﺅ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز سینئر ڈائریکٹرصحت و بلدیہ عظمیٰ شعبہ فیومیگیشن کے افسران، واٹر بور ڈ ، محکمہ صحت ،کنٹونمنٹ بورڈز ، ڈی ایم سیز اورمتعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی ،شہر میں نگلیریا اور ڈنگی کی صورتحال سے آگاہ کیا،اسی طرح متوقع بارشوں کے پیش نظر بلدیاتی اداروں کی جانب سے ڈنگی کے خاتمے کے لیے اسپرے کرنے کے انتظامات کو ناکافی قراردیا،کمشنر نے متعلقہ اداروں کوتنبیہ کی اورکہا کہ وہ موجودہ موسم اور متوقع بارشوں کے پیش نظرنگلیریا اور ڈنگی کی روک تھام کیلیے ہنگامی اقدامات کریں۔اجلاس میں اس سلسلے میں متعلقہ اداروں پر مشتمل نگلیریا اور ڈنگی کی روک تھام کیلیے اقدامات کو یقینی بنانے کیلیے علیحدہ علیحدہ 2 کمیٹیاں قائم کی گئیں جو فوری اقدامات کر کے کمشنرکو اگلے 24 گھنٹے میں رپورٹ کریں گی،کمشنر نے بلدیہ عظمٰی اور تمام ڈسٹرکٹ میونسپل کاپوریشنزکوہدایت کی کہ وہ اسپرے کی مہم شروع کریں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں میں نگلیریا اور ڈنگی سے بچاو¿ کا شعور اجاگر کر نے کی مہم شروع کی جائے،لو گوں کو آگاہ کیا جائے کہ کھڑے پانی کی وجہ سے ڈنگی کے وائرس کی افزائش ہوتی ہے۔وہ برتنوں میں پانی ڈھانپ کر رکھیں،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ٹائر شاپس، نرسریوں، قبرستانوں اور دیگر مقامات پر پانی جمع ہونے سے روکنے کیلیے بلدیاتی ادارے اقدامات کریں گے، تمام ڈپٹی کمشنرزاپنے اپنےعلاقوں میں ڈنگی کی روک تھام کیلیے افسران کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو مانٹیر کریں گے،تفریح گاہوں کے سوئمنگ پولزبھی چیک کیے جائیں گے، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شہرمیں سوئمنگ پولز میںکلورینشن کو چیک کیا جائے گا اور اس بات کو یقنی بنایا جائے گا،سوئمنگ پولز میں پانی کی کلورینیشن مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہوگی انھیں بندکردیا جائے گا، کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ جو سوئمنگ پولزصحت کے معیار کے مطابق کلورینشن نہ کریں انھیں بند کردیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…