اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بال نوچنے سے مزیدبال اگ آئیں گے،ماہرین

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

کیلیفورنیا (نیوزڈیسک)ایک تحقیق کے مطابق جتنا زیادہ بالوں کو خاص مقدار میں نوچیں گے اتنا ہی زیادہ وہ دوبارہ اگ آئیں گےاامریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سر کے بالوں کو ایک خاص طریقے سے اکھاڑنے یا نوچنے سے وہاں مزید بال اگ آتے ہیں۔جتنے بال نوچے گئے، ان کے ردِ عمل میں جسم خود کو پہنچنے والے زخم کا ادراک اسی تناسب سے کرتا ہے اور پھر اتنے ہی زیادہ بال دوبارہ اگ آتے ہیں۔سائنسی جریدے ’سیل‘ میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کی ٹیم نے چوہے کے 200 بال نوچے جس کے بعد اس کے 1,300 بال اگ آئے۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ’بہت اچھی سائنس‘ ہے لیکن ابھی وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس سے انسانی گنج پن کا علاج ہو پائے گا۔آدھے سے زیادہ مرد 50 سال کی عمر تک پہنچنے تک گنجے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کی ٹیم اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ کس طرح بالوں کے غدود ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں کہ انھیں کتنے بالوں کی مرمت کرنی ہے۔مختلف تجربات میں انھوں نے چوہے کے جسم سے ایک دائرے کی شکل میں بالوں کی 200 کی سادہ نالی نما تھیلیاں اتار دیں۔ان کو معلوم ہوا کہ جب بال چھ ملی میٹر کے قطر سے اتارے گئے تھے تو وہ دوبارہ نہیں اگے۔ لیکن جب پانچ ملی میٹر کے قطر سے 200 بال اتارے گئے تو 1,300 سو نئے بال اگ آئے۔اسی طرح جب اتنے ہی بال چار ملی میٹر کے قطر سے اتارے گئے تو 780 نئے بال اگے۔ہر بال اکھاڑنے سے نیا بال اگ آتا تھا لیکن اس سے کوئی اضافی بال نہیں اگتا تھا۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جلد کے اندر کی سوزش کی سطح بھی زخم کے حساب سے ہی ہوتی ہے، اور کیمیائی اشاروں اور مدافعت کے ردِعمل کی بوچھاڑ کی وجہ سے یہ بالوں کے نئے سرے سے اگنے کے عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر بال کو اس بارے میں ووٹ ملتا ہے کہ آگے کیا ہونا ہے اور جب یہ ایک انتہائی حد تک پہنچ جاتا ہے تو بال اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…