جمعرات‬‮ ، 02 جولائی‬‮ 2026 

طاعون کی بیماری کا سبب چوہے نہیں بلکہ جربو تھے‎

datetime 25  فروری‬‮  2015 |

گزشتہ کئی صدیوں سے عام طور پرماہرین چوہوں کو ہی طاعون کی بیماری کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں اور اسی بدولت چوہوں کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے لیکن اب ایک نئی تحقیق میں چوہوں کو اس جرم سے بری کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ چوہوں سے مماثلت رکھنے والا ’’جربو‘‘ نامی جانور درحقیقت مہلک ترین بیماری طاعون کی اصل وجہ ہے۔

طاعون ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی تاریخ میں 20 کروڑوں لوگوں کو موت کے منہ میں پہنچا چکی ہے اور عام طور پر یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اس بیماری کو پھیلانے کا باعث چوہے بنتے ہیں لیکن اب اوسلو یونیورسٹی کے محققین نے نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاعون یعنی کالی موت کے ذمہ دار چوہے کی ہی شکل جیسے جربو ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تیز دانتوں والا یہ جانور 14 ویں صدی میں وسطی ایشیا کے ساحلوں سے یورپی ساحلوں تک پہنچا اور پھر یہاں کالی موت جیسی بیماری پھیلا کر لاکھوں انسانوں کی موت کا سبب بنا۔

تحقیق کے کو آتھر پروفیسر اسٹین ستھ کا کہنا ہے کہ تحقیق کے لیے انہوں نے قرون وسطی سے ’ٹری رنگ ڈیٹا‘ کی مدد لی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو اس سے میچ کرکے طاعون سے ہونے والی اموات کو اس سے جوڑا تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس بیماری کے پھیلنے کا بیکٹیریا یورپ سے نہیں بلکہ وسطی ایشیا سے آیا تھا جس سے یورپ میں یہ بیماری پھیلی اوریہ پیٹرن ہر15 سال بعد گرم ترین موسم کی وجہ سے بار باروجود میں آتا رہا۔

سائنسدانوں کےمطابق جربو ایشیا سے یورپ کے ساحل پر پہنچے تو ان کے جسموں پر موجود پسو پورے یورپ میں پھیل گئے اور جب بھی موسم گرم ہوتا جربو کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی تھی بلکہ صرف ایک ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ جربو کی آبادی کو دوگنا کردیتا تھا۔ پرفیسر اسٹین کےمطابق جربو کے جسم پر پرورش پانے والے پسو اونٹوں کے ذریعے بھی یورپ منتقل ہوئے جبکہ اس بیماری نے  1348 سے 1350 کے درمیان یورپ کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے جب کہ 1603 میں اس بیماری نے دوبارہ یورپ کا رخ کیا اور صرف لندن میں طاعون سے 38 ہزار افراد اس کا شکار ہوگئے۔

پروفیسر اسٹین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق سچ ثابت ہوتی ہے تو انہیں اس حوالے سے دنیا کی تاریخ کو دوبارہ لکھنا پڑے گا۔



کالم



چین کا نظام


ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…