نیو یارک(نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت نے 2020 تک ایسی اسمارٹ سرنج متعارف کرانے پر زور دیا ہے جس کا دوبارہ استعمال کسی صورت ممکن نہ ہو۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ سرنج کا استعمال ہر سال 20 لاکھ سے زائد افراد میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ نئی سرنج مہنگی ہوں گی لیکن عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اِن کا استعمال بیماری کے علاج سے سستا ہوگا۔دنیا بھر میں ہر سال 16 ارب سے زیادہ انجکشن لگائے جاتے ہیں اور اس کے لئے استعمال کی جانے والی عام سرنج بار بار استعمال کی جا سکتی ہے۔ لیکن اسمارٹ سرنج کے استعمال کے بعد ان کی سوئی ٹوٹ جانے کے بعد یا دیگر طریقوں سے اس کا دوبارہ استعمال ناممکن ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کی انجیکشن سیفٹی ٹیم کی ڈاکٹر سلمیٰ خامسی کا کہنا ہے کہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ اس سے ہر سال ہیپاٹائٹس بی کے 17 لاکھ، ہیپاٹائٹس سی کےتین لاکھ اور ایچ آئی وی کے25ہزار نئے کیسز اور جیسا کہ ایبولا اور ماربرگ، سے بچا جا سکے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)
-
آئی فون 18 کی لانچنگ سے قبل آئی فون 17 کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
شہری یہ انجیکشن ہرگز نہ لگوائیں! الرٹ جاری
-
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تاریخ سامنے آگئی
-
پہلی ہی فلم سے ہٹ ہونے والے رومانوی ہیرو اب شادیوں میں رقص کرکے گزر بسر کرنے پر مجبور
-
وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کرلیا، نئی آٹو پالیسی منظور، اہم تبدیلیاں سامنے آگئیں
-
ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ
-
پاکستانیوں کے لیے بغیر جاب آفر جرمنی جانے کا سنہری موقع
-
پنشنرز اور قومی بچت اسکیموں کے سرمایہ کاروں کے لیے اہم خبر
-
پرائیویٹ حج سکیم2027ءمیں درخواستیں دینے والے عازمین کے لئے خوشخبری
-
حسن علی کی اہلیہ کی پراسرار پوسٹ، کرکٹر کے مبینہ افیئر کی افواہیں گرم
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا
-
قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئےاہم خبر آگئی



















































