منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے تفتیشی افسر کی گرفتاری کا حکم

datetime 21  فروری‬‮  2015 |

کراچی:….. سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہ ہونے پر تفتیشی افسر کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں۔

ہفتےکو کراچی کی ماتحت عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر سب انسپکٹر جہانزیب کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردئیے۔

یاد رہے کہ کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا تھا کہ وہ گواہوں کے بیانات کی کاپی پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی کو پیش کریں تاہم اس حکم پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، جبکہ آج سماعت کے دوران تفتیشی افسر جہانزیب خود بھی پیش نہیں ہوئے۔

جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی اور تنخواہ روکنے کا حکم بھی دے دیا۔

واضح رہے کہ گیارہ ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں ماہ سندھ ہائی کورٹ میں رینجرز کی جانب سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اس واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) ملوث تھی، تاہم ایم کیو ایم نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے جے آئی ٹی پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران کیس سے دستبردار ہونے والی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شاذیہ ہنجرا بھی عدالت پہچیں اور اپنے استعفیٰ سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دستبرداری سے متعلق اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ شازیہ ہنجرا نے 16 فروری کو تفتیشی افسرکی جانب سے تعاون فراہم نہ کرنے پر بلدیہ ٹاؤن کیس سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقدمے میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے درمیان ہم آہنگی ہونا ضروری ہے، تاہم انہیں کبھی تفتیشی افسر کا تعاون حاصل نہیں رہا۔

نمائندے کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزمان فیکٹری مالکان عبد العزیز بھیلہ اور ان کے دو بیٹوں ارشد بھیلہ اور شاہد بھیلہ بھی طبی وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت میں پیش نہ ہونے پر ان کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ ملزمان گزشتہ سماعت میں بھی پیش نہیں ہوئے تھے، جس پر عدالت نے ان کا میڈیکل سرٹیفیکٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…