ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

’ 70 ہزار سال پہلے پردیسی ستارے کا نظامِ شمسی سے گزر‘

datetime 19  فروری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 70 ہزار سال قبل ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک ستارہ ہمارے نظام شمسی میں سے گزرا تھا۔سائنسدان کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی بھی باہر کا ستارہ ہمارے نظام شمسی کے اتنے قریب سے نہیں گزرا۔تحقیق دانوں کی بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ ہمارے سب سے قریبی ستارے پروکسیما سینٹوری سے بھی زیادہ قریب آ گیا تھا۔شولز نامی ستارہ ہمارے شمسی نظام کی بیرونی حد کے قریب سے گزرا جس کو اورٹ کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ہمراہ ایک اور ستارہ بھی تھا۔یہ تحقیق ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہمارے سب سے قریب موجود ستارہ پروکسیما سینٹوری ہم سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ ستارہ 0.8 نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔ہمارے سب سے قریب موجود ستارہ پروکسیما سینٹوری ہم سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ ستارا 0.8 نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔
ماہرینِ فلکیات
نیو یارک کی روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک بتاتے ہیں کہ سائنسدانوں کی ٹیم کو 98 فیصد یقین ہے کہ یہ ستارہ اورٹ کلاؤڈ کے بیرونی حصے سے گزرا تھا جہاں کھربوں دمدار ستارے موجود ہوتے ہیں۔
اس ستارے کا راستہ معلوم کرنے کے لیے سائنسدانوں کو دو معلومات درکار تھیں۔ ایک تو ستارے اور سورج کے فاصلے میں تبدیلی اور دوسری اس کی حرکت۔شولز ستارہ اس وقت ہماری نظام شمسی سے 20 نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اورٹ کلاؤڈ سے گزرنے والا ستارہ نظام میں موجود دمدار ستاروں کے مدار میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ان کو نظامِ شمسی کے اندرونی حصے کی جانب بھیج سکتا ہے۔ تاہم روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک کا کہنا ہے کہ شولز نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
ایرک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اورٹ کلاؤڈ میں کھربوں دمدار ستارے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس ستارے کے باعث ان میں کچھ تبدیلی آئی ہو۔ لیکن ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ستارے کے باعث دمدار ستاروں کی بارش ہو۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…