منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

والدین اتنے احمق بھی ہو سکتے ہیں ،آپ پڑھیں گے تو پریشان ہو جائیں گے

datetime 9  فروری‬‮  2015 |

نیویارک …… بچوں کی تربیت کی ہر والدین کو فکر ہوتی ہے لیکن ایک امریکی خاندان اپنے بچے کی تربیت کی کوشش میں حد سے گزر گیا اور اپنے بیوقوفی کی وجہ سے اب قانون کے شکنجے میں آچکا ہے۔

اس خاندان کے چھ سالہ بچے کو اجنبیوں کے ساتھ مانوس ہونے کی بہت عادت تھی اور وہ کسی بھی آتے جاتے شخص کے ساتھ باتوں میں لگ جاتا اور اکثر ہمسایوں یا قریبی لوگوں کے ساتھ گھومنے پھرنے سے بھی گھبراتا نہیں تھا۔ والدین بچے کی اس عادت سے پریشان تھے اور اسے سمجھانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ننھے بچے کو سمجھانے کے لئے نہایت احمقانہ طریقہ اختیار کیا۔
بچے کی خالہ کرسٹینا نے اپنے دوست رابرٹ کو اس بات پر تیار کیا کہ وہ بچے کو اپنے ساتھ مانوس کرنے کی کوشش کرے اور اگر بچہ مانوس ہونے کی غلطی کرے تو سزا کے طور پر اسے غوا کرلیا جائے اور خوب ڈرایا دھمکایا جائے تاکہ اسے احساس ہو کہ اجنبیوں پر اعتماد کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بچے کے والدین بھی اس احمقانہ منصوبے میں پوری طرح شامل تھے۔
جب ایک روز یہ ننھا بچہ سکول بس سے اترا تو رابرٹ اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اس نے منصوبے کے مطابق بچے سے گفتگو کا آغاز کیا اور پھر چند ہی لمحوں میں اس کے ساتھ گھل مل گیا۔ رابرٹ نے بچے کو ٹرک میں بٹھایا اور اس کے گھر سے دور ایک جگہ لےجاکر قید کردیا۔ اس نے بچے کو بتایا کہ اسے اغواءکرلیا گیا ہے، اس دوران اس نے بچے کے ہاتھ پاﺅں باندھ دئیے اور اسے ایک اصلی پستول سے ڈراتا بھی رہا۔ جب بچے نے خوف سے رونا چلانا شروع کیا تو اس کے منہ پر ایک جیکٹ ڈال دی۔ چار گھنٹے کے بعد یہ شخص بچے کو اس کے گھر واپس چھوڑ گیا۔
اس واقع کی خبر کسی طرح سے مقامی پولیس تک پہنچی تو بچے کے والدین، خالہ اور خالہ کے دوست کو فوری طور پر گرفتار کرلیاگیا۔ مقامی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ احمق والدین نے بچے کی تربیت کا جو انداز اختیار کیا ہے اس کے نتیجہ میں اس کے ننھے ذہن پر نہایت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور وہ ابھی تک ذہنی صدمے کی حالت میں ہے۔ بچے کے خاندان کے خلاف قانونی کارروائی کا باقاعدہ طور پر آغاز کردیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…