منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جامعہ حفصہ میں مقیم خاتون عظمیٰ قیوم اور ان کے والدین کے درمیان صلح ہو گئی، گھر جانے کا حکم

datetime 9  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت نے لال مسجد سے منسلک جامعہ حفصہ میں مقیم خاتون عظمیٰ قیوم اور ان کے والدین کے درمیان صلح ہونے پر عظمیٰ کو گھر جانے کا حکم دیا ہے۔عظمیٰ قیوم کے والد شیخ محمد قیوم نے پشاور کے سانحے کے بعد لال مسجد کے سابق خطیب کو ان کے طالبان نواز رویے کے بعد عدالت سے رجوع کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو جامعہ حفصہ والوں نے ’یرغمال بنایا ہوا ہے اور ان کی برین واشنگ کر دی ہے‘۔شیخ قیوم کے مطابق ان کی 26 سالہ بیٹی جون 2014 میں جامعہ حفصہ گئی تھیں اور تب سے وہ ادھر ہی مقیم تھیں۔شیخ قیوم کے وکیل محمد حیدر امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے ہیوم رائٹس سیل میں درخواست دی تھی جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس کیس کو سیشن کورٹ بھیجا۔
شرائط کیا ہیں؟

عظمیٰ قیوم کی شرائط
مزید تعلیم جاری رکھیں گی
گھر میں شرعی ماحول ہو گا
شادی میری مرضی سے ہو گی
جامعہ حفصہ کے لوگوں سے ملنے کی اجازت ہو گی
والدین کی شرائط
عظمیٰ اب گھر سے نہیں بھاگیں گی
جامعہ حفصہ کے لوگوں سے والدین کی موجودگی میں ملاقات
حیدر امتیاز نے بتایا کہ والدین اور بیٹی کے درمیان ایک صلح نامہ ہوا ہے۔ ’کچھ شرائط عظمیٰ کی تھیں اور کچھ ان کے والدین کی۔ دونوں شرائط ماننے پر رضا مند ہو گئے ہیں جس پر سیشن کورٹ جج نذیر احمد گجانہ نے عظمیٰ کو والدین کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔‘شیخ قیوم کے وکیل نے مزید بتایا کہ پیر کو جامعہ حفصہ کی منتظم امِ حسان کو طلب کیا اور کہا کہ ’صلح نامہ ہو گیا ہے اور اب آپ بھی اس معاملے کی مزید پیروی نہ کریں۔‘حیدر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل کی جانب سے ایک حلف نامہ عدالت میں جمع کرا دیں گے جس کے بعد ان کے موکل اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔وکیل حیدر امتیاز کے مطابق سیشن جج ویسٹ نے سیکشن 491 کے تحت کارروائی کی اور عظمیٰ کو پہلے جامعہ حفصہ سے دارلامان بھجوایا گیا تاہم وہاں اس کی والدین سے ملاقات نہیں ہو سکی۔بعدازاں عظمیٰ کو خواتین کے شیلٹر ہوم میں دس روز تک رکھا گیا اور پھر والدین سے ملاقات کا انتظام کیا گیا۔’جب وہ دارلامان میں تھیں تو وہ خاندان سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ تاہم جب وہ شیلٹر ہوم میں گئیں تو خاندان سے روز ملاقاتیں ہوئیں تو صورتحال بہتر ہوئی۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…