منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مصر میں فٹ بال میچ کے دوران شائقین کی پولیس سے جھڑپ ،چالیس افراد مارے گئے

datetime 9  فروری‬‮  2015 |

قاہرہ۔۔۔۔۔ مصر میں فٹبال اسٹیڈیم میں میچ کے دوران شائقین کی پولیس سے جھڑپ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم 40 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق زمالک’ اور ‘اینپی’ نامی فٹ بال کلب کے درمیان دارالحکومت قاہرہ کے ‘ایئر ڈیفنس اسٹیڈیم’ میں میچ ہونا تھا جس میں شرکت کے لیے ‘زمالک’ کے سیکڑوں حامی اسٹیڈیم کے باہر جمع تھے۔عینی شاہدین کے مطابق اتوار کو پیش ا نے والے اس واقعے میں معاملہ اس وقت بدترین شکل اختیار کر گیا جب زمالک کے حامیوں نے ا رمی کے زیر انتظام اسٹیڈیم میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے ا نسو گیس کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔مصری وزارت داخلہ کے مطابق جھڑپ اس وقت ہوئی جب ’الٹرس وائٹ نائٹس‘ کے نام سے مشہور زمالک کے حامیوں نے ٹکٹ خریدے بغیر اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کی۔وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ زمالک کلب کے شائقین میچ دیکھنے کے لیے ائے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اسٹیڈیم کے دروازے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جس کے باعث فورسز کو انہیں روکنے کے لیے ایکشن لینا پڑا۔ان شائقین نے اپنے فیس بک پیج پر اموات کا ذمے دار اسٹیڈیم حکام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب حکام نے اسٹیڈیم کے اندر جانے کے لیے صرف ایک گیٹ کھولا جو انتہائی چھوٹا اور تنگ تھا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی ہوائی فائرنگ اور انسو گیس کی شیلنگ کے باعث بعد میں بھگدڑ مچ گئی۔اس واقعے کے بعد پریمیئر لیگ کو غیر معینہ مدت تک منسوخ کردی ہے۔مصر میں فٹبال میچ کے دوران تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں، تین سال قبل 2012 میں پورٹ سعید میں ہونے والے میں شائقین کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…