اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں ایک اور ملالہ نے جنم لے لیا ، جا ننے کیلئے کلک کریں

datetime 7  فروری‬‮  2015 |

کراچی… خشک سالی اور پسماندگی کا شکار صحرائے تھر میں پانی کے ساتھ علم کی بھی بڑی پیاس ہے تھرکی باہمت خواتین نے اب تعلیم کے ذریعے اپنی حالت بدلنے اور نسلوں کا مستقبل بنانے کے لیے کمرکس لی ہے۔

سندھ حکومت کی شراکت سے تھر کے بلاک نمبر 2 میں کوئلے کی کان کی تیاری کے  پروجیکٹ کے آغازکے ساتھ ہی مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے اور لامحدود مواقع پیدا ہوگئے ہیں۔ تھر کے مردوں کے ساتھ خواتین بھی اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے میدان میں آگئی ہیں۔ ایسی ہی خاتون ’’کشور بائی‘‘ نے کوئلے کی کان اور پاور پلانٹ کے اس منصوبے میں روزگار حاصل کرنے والی پہلی مقامی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے اور اب وہ گھرگھر جاکر تعلیم کی اہمیت بالخصوص خواتین میں تعلیم کا رجحان بڑھانے کے لیے بطور سوشل موبیلائزر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

کشور بائی تھر میں کوئلے کے ذخائر (بلاک ٹو) میں واقع ایک گائوں ’’تلہو‘‘ کی رہائشی ہیں کشور بائی نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم بھی حاصل کی ہے۔کشورشادی شدہ اور3 بچوں کی ماں ہیں اب تک امور خانہ داری انجام دینے والی کشور تھر کی پہلی خاتون ہیں جنھوں نے نجی ملازمت اختیارکی اور سندھ اینگروکول مائننگ کمپنی میں نومبر 2014 سے سوشل موبیلائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کمپنی کے اعلیٰ افسران کے مطابق کشور بائی ایک انتہائی پراعتماد شخصیت کی حامل خاتون ہیں جو تھر میں خواتین میں تعلیم کے فروغ کی پرجوش حامی ہیں اور معاشی خودمختاری کی علامت بن گئی ہے۔

 انٹرویو میں کشور بائی نے بتایا کہ وہ تھر کے دیہات کے گھروں میں جاکر مقامی آبادی کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے مشن پر کام کررہی ہیں۔میں چاہتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ تھری عوام تعلیم حاصل کرکے کوئلے کے منصوبوں میں روزگار حاصل کریں اس مقصد کے لیے میں خود کو ایک مثال کے طور پرخواتین کے سامنے پیش کرتی ہوں اور انھیں بتاتی ہوں کہ میری تعلیم سے مجھے فائدہ ہوا ہے۔

مجھے روزگار ملا اگر مزید لڑکیاں بھی تعلیم مکمل کریں گی تو انھیں بھی گھر کے نزدیک اپنے ماحول میں روزگار ملے گا جس سے خوشحالی آئے گی۔ کشور کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب تھر کی لڑکیاں اورخواتین بھی ڈاکٹر، انجینئر اور استاد بن کر ملک اور قوم کی خدمت کریں گی۔ کشور کے مطابق طبی سہولتوں کا فقدان تھر کی خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے بالخصوص زچہ و بچہ کی نگہداشت اورصحت کے مسائل کے حل کی کوششوں کو تیز کرنا ضروری ہے۔

پسماندگی اور وسائل کی کمی کے باوجود ان کی کمیونٹی اور گائوں میں بچوں کی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے ان کے گائوں میں اسکولوں کی حالت اتنی بہتر نہیں ہے، گائوں تلہو میں قائم پرائمری اسکول ایک این جی او نے بنایا قریبی گائوں سنگھاریو میں آٹھویں کلاس تک کا اسکول ہے لیکن اس میں نہ اساتذہ آتے ہیں اور نہ ہی پڑھائی ہوتی ہے اس لیے بچوں کو گائوں ’’گوری، دھانہ دھاندل ‘‘ یا قریبی شہراسلام کوٹ جانا پڑتا ہے۔

کشور کے مطابق تھری خواتین میں تعلیم بہت ضروری ہے کیونکہ تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف اپنے بچوں کی رہنمائی بلکہ اپنے خاوند کا بھی ہاتھ بٹا سکتی ہے۔ کشور کا کہنا ہے کہ تھر میں کوئلے کی کان اور پاور پلانٹ کی تعمیر سے ان کی زندگیوں میں انقلاب آسکتا ہے لیکن اس کے لیے آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…