ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغان پناہ گزینوں کو حراساں نہ کریں، افغان طالبان کا پاکستان کو انتباہ

datetime 31  جنوری‬‮  2015 |

پشاور۔۔۔۔۔ افغان طالبان نے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی حراست اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو حراساں کرنے سے روکنے کی درخواست کی ہے۔افغان طالبان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز پر ملک کے مختلف صوبوں، خصوصاً خیبر پختونخوا سے افغان تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور تشدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ افغان شہریوں کونشانہ بنانے سے افغانستان اور پاکستان کے مابین ‘دشمنی’ پیدا ہوگی۔افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز ملک کے مختلف صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوا میں گزشتہ ماہ سے آپریشن اور تفتیش میں مصروف ہیں۔’ہر قوم کو اپنی ریاست کی حدود میں بلا تفریق تفتیش کا حق ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ماہ کے دوران پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، جبکہ ان کی وجہ سے سیکیورٹی کے کوئی مسائل پیدا نہیں ہو رہے تھے’۔طالبان کا کہان ہے کہ ‘ یہ مہاجرین گزشتہ تین عشروں سے پاکستان میں پرامن طور پر رہائش پذیر ہیں جبکہ متعدد کے پاس یہاں رہنے کی قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں’۔واضح رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے بدترین حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے، کیونکہ پولیس کو مختلف جرائم میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔پاکستان میں اس وقت 1.6 ملین رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں جو یہاں دسمبر 2015 تک رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔افغان طالبان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے شہری مسلم بھائی چارے کی ڈور میں مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں جبکہ ان کی ثقافتی اور تاریخی روایات بھی آپس میں جڑی ہوئی ہیں، لہذا یہ بات دونوں قوموں کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ ان روابط کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں افغانوں کی پاکستان میں موجودگی نے دونوں قوموں میں ایک دوسرے کے لیے باہمی بھائی چارے اور ہمدردی کے جذبات پیدا کیے ہیں لیکن اگر افغانوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا تو اس سے دونوں قوموں کے درمیان دشمنی پیدا ہو جائے گی۔’یہی وجہ ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان، پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان مہاجرین کے ساتھ برے سلوک سے روکا جائے، جبکہ حراست میں موجود افغان شہریوں کو بھی جلد از جلد رہا کیا جائے، تاکہ وہ اپنی معمول کی ز ندگیوں کی طرف واپس آسکیں اور اس بات کا بھی یقین دلایا جائے کہ آئندہ کسی بے گناہ افغان مہاجر کو گرفتار یا اس کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…