منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغان پناہ گزینوں کو حراساں نہ کریں، افغان طالبان کا پاکستان کو انتباہ

datetime 31  جنوری‬‮  2015 |

پشاور۔۔۔۔۔ افغان طالبان نے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی حراست اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو حراساں کرنے سے روکنے کی درخواست کی ہے۔افغان طالبان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز پر ملک کے مختلف صوبوں، خصوصاً خیبر پختونخوا سے افغان تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور تشدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ افغان شہریوں کونشانہ بنانے سے افغانستان اور پاکستان کے مابین ‘دشمنی’ پیدا ہوگی۔افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز ملک کے مختلف صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوا میں گزشتہ ماہ سے آپریشن اور تفتیش میں مصروف ہیں۔’ہر قوم کو اپنی ریاست کی حدود میں بلا تفریق تفتیش کا حق ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ماہ کے دوران پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، جبکہ ان کی وجہ سے سیکیورٹی کے کوئی مسائل پیدا نہیں ہو رہے تھے’۔طالبان کا کہان ہے کہ ‘ یہ مہاجرین گزشتہ تین عشروں سے پاکستان میں پرامن طور پر رہائش پذیر ہیں جبکہ متعدد کے پاس یہاں رہنے کی قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں’۔واضح رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے بدترین حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے، کیونکہ پولیس کو مختلف جرائم میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔پاکستان میں اس وقت 1.6 ملین رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں جو یہاں دسمبر 2015 تک رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔افغان طالبان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے شہری مسلم بھائی چارے کی ڈور میں مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں جبکہ ان کی ثقافتی اور تاریخی روایات بھی آپس میں جڑی ہوئی ہیں، لہذا یہ بات دونوں قوموں کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ ان روابط کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں افغانوں کی پاکستان میں موجودگی نے دونوں قوموں میں ایک دوسرے کے لیے باہمی بھائی چارے اور ہمدردی کے جذبات پیدا کیے ہیں لیکن اگر افغانوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا تو اس سے دونوں قوموں کے درمیان دشمنی پیدا ہو جائے گی۔’یہی وجہ ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان، پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان مہاجرین کے ساتھ برے سلوک سے روکا جائے، جبکہ حراست میں موجود افغان شہریوں کو بھی جلد از جلد رہا کیا جائے، تاکہ وہ اپنی معمول کی ز ندگیوں کی طرف واپس آسکیں اور اس بات کا بھی یقین دلایا جائے کہ آئندہ کسی بے گناہ افغان مہاجر کو گرفتار یا اس کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…