ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

بچے کا منفرد نام رکھنے کیلئے انگریزوں نے نکال لیا ایک حل

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

پاکستان میں نومولود بچوں کے منفرد نام رکھنے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے۔ ایسے ایسے نام سماعت سے ٹکراتے ہیں کہ سُن کر حیرت ہوتی ہے۔ تاہم بہت سے نام کانوں کو بھلے بھی لگتے ہیں۔

ایک شناسا نے بھی اپنے بچے کا منفرد سا نام رکھا تھا۔ پہلی بار سنا تو ان سے استفسار کیا کہ حضرت بچے کا نام کس نے رکھا؟ انھوں نے جواباً کہا،’’ نام تو میں نے ہی رکھا ہے مگر یہ نام ڈھونڈنے میں دو ہفتے لگے۔‘‘ ان کا جواب سُن کر ہم حیران رہ گئے۔ بعدازاں موصوف نے نام کی تلاش کا قصہ سنایا کہ بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ بچے یا بچی کے لیے ایسا نام منتخب کیا جائے گا جو کسی کا بھی نہ ہوگا یا بہت ہی کم سننے میں آیا ہوگا۔ چناں چہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انھوں نے نام کی تلاش شروع کردی۔

انھوں نے مسلمان بچوں کے ناموں کی کئی کتابیں خرید ڈالیں مگر ان میں سے کوئی نام انھیں، ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کو نہیں بھایا۔ چناں چہ انٹرنیٹ پر نام کی تلاش کا آغاز کیا گیا۔ اتفاق سے گھر پر انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی۔ چناں چہ وہ دفتر میں وقت نکال کر نومولود کے لیے نام تلاش کرنے میں جُتے رہتے۔ انھوں نے دو بار ناموں کی فہرست ترتیب دی۔ تاہم ہر بار فہرست مسترد ہوگئی۔ انھیں کوئی نام پسند آتا تواہلیہ مسترد کردیتیں، یا پھر نومولود کے دادا دادی کو اچھا نہیں لگتا۔ بالآخر بڑی مشکلوں سے سب لوگ ایک نام پر متفق ہوئے۔ مگر اس دوران نومولود دو ہفتے کا ہوچکا تھا! یہ داستان سُن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ بچے کا نام رکھنا بھی کتنا کٹھن ہوگیا ہے۔

مغرب میں بھی والدین کے لیے بچے کا نام رکھنا آسان نہیں رہا، کیوں کہ وہاں بھی بچوں کے منفرد نام رکھنے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے۔ والدین کی اس مشکل کو آسان کرنے کا بیڑا سوئٹزرلینڈکی ایک کمپنی نے اٹھالیا ہے۔ اگرآپ چاہیں تو اس کمپنی کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ بس اس کے لیے آپ کو 32000 امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعد کمپنی کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور چند دنوں کی محنت شاقہ کے بعد آپ کے بچے کے لیے وہ نام تجویز کریں گے جو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہوگا۔

Erflogswelle نامی یہ کمپنی دراصل مختلف اداروں کے لیے ان کی مصنوعات کے نام تجویز کرتی ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے بچوں کے نام بھی تجویز کرنے شروع کردیے ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹر مارک ہائوسر کو اس سروس کے آغاز کا خیال کچھ عرصے قبل اس وقت آیا جب اس نے اپنے دوست کے بچے کا نام رکھنے میں اس کی مدد کی۔ مارک کا کہنا ہے،’’ دونوں میاں بیوی کے درمیان بچے کے نام پر اتفاق نہیں ہوپا رہا تھا۔ پھر جب اسی وجہ سے ان کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی تو میں نے سوچا کہ اس معاملے میں ان کی مدد کرسکتا ہوں۔‘‘ مارک کا تجویز کردہ نام دونوں کو پسند آیا تھا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب اسے خیال آیا کہ کیوں نہ بچوں کے نام تجویز کرنے کی سروس شروع کردی جائے۔ چناں چہ اس نے اپنے قابل ترین ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی اور انھیں بچوںکے منفرد اور انوکھے نام تلاش کرنے پر لگادیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کئی تیکنیکیں وضع کررکھی ہیں۔ اس کے علاوہ رہنما ہدایات بھی تشکیل دے رکھی ہیں جن سے انھیں منفرد نام تلاش اور وضع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کمپنی کو والدین کی جانب سے کوئی آرڈر موصول ہوتا ہے تو ٹیم کے اراکین اپنے کام میں جُت جاتے ہیں۔ وہ ایسا نام تلاش کرتے ہیں جو بہ آسانی اد اکیا جاسکتا ہو اور جس کے کم از کم بارہ زبانوں میں معانی بُرے نہ ہوں۔ نام کی تلاش کے دوران کمپنی کے ماہرین نومولود کے خاندانی، تاریخی اور ثقافتی پس منظر کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

ماہرین زیادہ سے زیادہ پانچ ہفتے کے بعد والدین کو چند نام پیش کرتے ہیں جن میں سے وہ کوئی ایک نام منتخب کرلیتے ہیں۔ کمپنی اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ یہ نام دنیا میں کسی اور فرد کا نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…