ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

ورلڈکپ سے قبل پاکستانی کھلاڑی حارث سہیل کو 'بھوت' چمٹ گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

کرائسٹ چرچ: ابھی ورلڈ کپ شروع ہونے میں کچھ دن باقی ہیں لیکن پاکستانی کھلاڑی جہاں پریکٹس میچوں کے دوران گراؤنڈ میں خوفزدہ نظر آرہے ہیں وہیں نوجوان کرکٹر حارث سہیل نے دعویٰ کرڈالا  کہ رات کو جنوں اور بھوتوں نے آکر انہیں اتنا خوف زدہ کردیا کہ وہ ڈر کے مارے  پوری رات نہ سو سکے۔

نیوزی لینڈ کے  میڈیا کے مطابق پہلا ورلڈ کپ کھیلنے والے نوجوان کرکٹر حارث سہیل کرائسٹ چرچ کے ہوٹل ریجز لیٹیمر میں اپنے دیگر ساتھی کھلاڑیوں کےساتھ مقیم تھے کہ اچانک آدھی رات کو انہوں نے ہوٹل انتظامیہ کو بتایا کہ کچھ جنوں نے اس کے کمرے پر قبضہ جما لیا ہے اور اس کا بیڈ زور زور سے ہلا رہے ہیں جس سے وہ سخت خوف زدہ ہیں جس پر ٹیم کوچ وقار یونس کو جگایا گیا جنہوں نے معاملے کو سنبھالتے ہوئے حارث سہیل کو اپنے کمرے میں سلا لیا۔ حارث سہیل پر بھوتوں کا خوف کچھ اتنا طاری ہوا کہ وہ اگلے روز نیوزی لینڈ کی پریذیڈنٹ الیون کے خلاف  پریکٹس میچ بھی نہ کھیل سکے۔

قومی کرکٹ ٹیم منیجر نوید اکرام چیمہ کاکہنا تھاکہ واقعے کے بعد حارث سہیل واضح طورپر خوفزدہ اور ڈرے ہوئے نظر آرہے تھے کیوں کہ  حارث کو بخار تھا اور ہوسکتا ہے کہ وہ اسی بخار کی وجہ سے پریشان ہو گئے ہوں تاہم ان کا اب بھی کہنا ہے  ہے کہ کسی جن نے ہی ان کے بیڈ کو زور زور سے ہلایا تھا۔ دوسری جانب ہوٹل انتظامیہ نے واقعے پر تبصرہ کرنے سے  انکار کردیا تاہم ایک اسٹاف ممبر کاکہنا تھا کہ یہ ناقابل یقین واقعہ ہے اور پاکستانی ٹیم مینجمنٹ اسے کھلاڑی کا کوئی خوفناک خواب قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ہوٹل زلزلے کی تباہی کے بعد 2011 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا لیکن واقعہ والی رات کسی زلزلے کی خبر بھی سامنے نہیں آئی ہے تاہم یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی بین الاقوامی کھلاڑی نے نیوزی لینڈ میں قیام کے دوران جنوں کے بسیروں کا ذکر کیا ہو۔ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے شین واٹسن سمیت کئی کھلاڑیوں نے 2005 میں اپنے دورے کے دوران لیملے کیسل ہوٹل میں قیام کے دوران اپنے کمروں میں بھوتوں کی شکایت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…