منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست عام کی جائے،سپریم کورٹ

datetime 22  جنوری‬‮  2015 |

 اسلام آباد۔۔۔۔۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست عام کرے تاکہ عوام کو اس سلسلے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔ یہ حکم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو قانونی کتب میں غلطیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومت شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ایسی تنظیموں کے بارے میں علم ہو جنھیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کو ملک میں کالعدم قرار دی گئی شدت پسند تنظیموں اور اُن کی تعداد کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ وہ جن تنظیموں کو چندہ دے رہے ہیں آیا حکومت نے اُنھیں کالعدم قرار تو نہیں دیا۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ اس فہرست کا تبادلہ دوست ممالک سے بھی کرے تاکہ اگر وہاں ان تنظیموں کے دفاتر ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آج ہی حکومت سے ہدایات لے کر آئیں کہ وہ کتنے عرصے میں کالعدم تنظیموں کی فہرست متعلقہ اداروں کی ویب سائٹ پر لگا دے گی۔ اٹارنی جنرل نے اس ضمن میں عدالت سے مہلت طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ملک میں 72 کالعدم تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ لیکن چند ہی روز بعد انھوں نے کہا کہ صرف اس وقت صوبہ پنجاب میں 95 کے قریب کالعدم تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ تاہم اُنھوں نے ان تنظیمیوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے علیحدہ گروپ بنا لیے ہیں اور اُنھیں کالعدم قرار دینے سے متعلق خفیہ ادارے اور انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اہلکار مل کر اس بارے میں تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔ قانونی کتب میں اغلاط پر عدالت کا کہنا تھا کہ جب قانون کی کتابوں میں اتنی غلطیاں ہوں گی تو پھر لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ شدت پسندی میں ملوث ہونے پر کیا سزا مل سکتی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون کی کتابوں کی اشاعت غلطیوں سے پاک ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…