اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

مریخ سے 11 سال قبل غائب ہو جانے والا تحقیقاتی روبوٹ مل گیا

datetime 17  جنوری‬‮  2015 |

لندن….. سرخ سیارے مریخ  کی سطح پر 11 سال قبل معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا جانے والا خلائی روبوٹ معلومات تو کیا حاصل کرتا خود ہی غائب ہوگیا اور اب اچانک مل گیا ہے جس سے کئی سالوں سے جاری اس کی کھوج کامیاب ہوگئی ہے۔

برطانیہ کے خلائی مشن پر جانے والے تحقیقاتی روبوٹ ’ بیگل‘ کو سرخ سیارے مریخ پر اترنا تھا لیکن جیسے ہی اس نے مریخ پر قدم رکھا وہ زمین پر موجود ریڈار سے غائب ہوگیا جس نے خلائی سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کردیا اوروہ بیگل کے پراسرار طور پر غائب ہونے کی وجہ کی تلاش میں لگ گئے اور اس کوشش میں انہیں 11 سال کا عرصہ گزر گیا لیکن پتہ نہ چل سکا کہ بیگل کہاں گیا کیونکہ بے چارے سائنسدان  خلا میں غائب ہونے والے روبوٹ کے بارے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ اسے آسمان کھا گیا کہ زمین نگل گئی، اوریہ مسئلہ اس وقت حل ہوگیا جب ناسا کے ہائی ریزولیشن سے لی گئی تصاویر نے راز افشاں کیا کہ لینڈر مریخ  ہی کی سطح پر موجود ہے لیکن چونکہ اس کا نظام پوری طرح نہ کھل سکا تھا اس لیے وہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

یورپین اسپیس ایجنسی کے مطابق 25 دسمبر 2003 میں مارس ایکسپریس کے ذریعے خلائی روبوٹ کو مریخ کی سطح پر اتارا گیا تھا لیکن اس کے سولر پینل پوری طرح نہیں کھل سکے جس کے باعث اس پر لگا انٹینا اپنا کام نہ کرسکا اور بیگل کو توانائی ہی نہ مل سکی جو اس کے سسٹم کو حرکت دیتی اوراس کا زمین سے رابطہ قائم ہو سکتا۔

بیگل کو تیار کرنے والی ٹیم کے ممبر مارک سمس کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیگل کی نشان دہی ہوگئی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوا کہ بیگل کے سولر پینل نہیں کھل سکے تاہم ہوسکتا ہے کہ ہائی ولاسٹی کی وجہ سے بیگل سطح سے زیادہ زور دار دھماکے سے ٹکرا گیا ہوگا جس کی وجہ سے سولر پینل نہ کھل سکے۔ یورپین خلائی ایجنسی کے مطابق 2 میٹر لمبے بیگل کی سب سے پہلے نشان دہی مائیکل کرون ٹائر نے کی  اور یوں کئی سال سے سائنسدانوں کو پریشان کردینا والا پراسرار مسئلہ حل ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…