اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان کا پروٹوکول کلچر کیخلاف جواب، پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پروٹوکول کلچر کے خلاف ہوں اور آئندہ میرے ساتھ پروٹول نہیں ہوگا۔

اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے دورے کے موقع پر میرے ساتھ پروٹوکول کی صرف 6 گاڑیاں تھیں اور میڈیا سے چھپ کر دہشتگردی سے متاثرہ اسکول کا دورہ کرنا چاہتا تھا لیکن کے پی کے وزرا کو دورے کا علم ہونے پر وہ بھی ساتھ چلے گئے جس کی وجہ سے قافلہ بڑا ہوگیا تاہم آئندہ اپنے ساتھ پروٹوکول نہیں رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات شفاف ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ عدلیہ کو کرنے دیا جائے اور اگر عدالت کہہ دے کہ حکومت کو مینڈیٹ مل گیا تھا تو ہم ماننے کو تیار ہیں، دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اس لئے ماحول خراب کرنا نہیں چاہتے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ 30 دسمبر کو حکومت سے تمام معاملات طے ہوگئے تھے لیکن اس کے بعد سے حکومت کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا اس لئے مجبور ہوکر اسحاق ڈار کو تین نکات پر مبنی خط ارسال کردیا ہے جس میں مذاکرات سے متعلق ایم او یو اور ٹی او آر شامل ہیں۔ حکومت کو لکھے گئے خط سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ہمارے درمیان جوڈیشل کمیشن آرڈیننس کے ذریعے بنانے پر اتفاق ہوگیا تھا اور اس حوالے سے حکومت سے 3 سوالات کے جواب پوچھے تھے کہ 2013 کے انتخابات شفاف اور آئین و قانون کے مطابق ہوئے یا نہیں، انتخابات میں کسی نے اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی اور عوام نے جنہیں ووٹ دیئے کیا نتائج بھی ووٹوں کے مطابق جاری ہوئے یا نہیں؟ اور عدالت سے ان تین سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور اگر عدالت کہہ دے کہ موجودہ حکومت کو ملنے والا مینڈیٹ درست ہے تو ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔

عمران خان نے واضح کیا کہ دھاندلی سے متعلق تحقیقات میری اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان کوئی ذاتی لڑائی نہیں بلکہ یہ جمہوریت کی لڑائی ہے، شفاف انتخابات سے آنے والی حکومت عوام پر پیسہ خرچ کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور صحت و تعلیم اور انصاف پر پیسہ خرچ کرنے سے عوام کو ریلیف اور جمہوریت ترقی کرتی ہے اور تحریک انصاف یہی چاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…