منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مزید دو مجرمان کو پھانسی دی گئی

datetime 15  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو مزید دو مجرمان کو پھانسی دی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پھانسیاں کراچی کی سینٹرل جیل اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح دی گئیں۔
کراچی میں سزائے موت پانے والا مجرم کالعدم تنظیم کا رکن محمد سعید تھا جسے سنہ 2001 میں ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی سید صابر حسین شاہ اور ان کے بیٹے عابد حسین شاہ کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
لاہور کی جیل میں زاہد حسین نامی مجرم کو تخت? دار پر لٹکایا گیا جنہیں 1998 میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کا یہ سلسلہ گذشتہ ماہ سے شروع ہوا جب وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے پشاور میں آرمی سکول پر طالبان کے حملے میں 134 بچوں سمیت 143 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
اس اعلان کے بعد سے اب تک 19 مجرموں کو ملک کی مختلف جیلوں میں پھانسی دی جا چکی ہے۔
اب تک پھانسی پانے والے مجرموں میں سے زیادہ تر فوجی اداروں پر حملے یا پھر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے مجرم تھے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کچھ شدت پسند بھی سزائے موت پانے والوں میں شامل ہیں۔
پاکستان میں پھانسیاں دینے کا عمل ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔
ان 8500 قیدیوں میں سے ایک اندازے کے مطابق 800 سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جنھیں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…