منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی خاطر ریاضی سیکھنا پڑ گئی کلک کر کے یہ رپورٹ پڑھیں

datetime 11  جنوری‬‮  2015 |

سنگاپور ۔۔۔۔۔یہاں والدین پرائمری سکول کا حساب سیکھ رہے ہیں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کے بچے کس تجربے سے گزرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ابتدائی حساب کی ٹیوشن لے رہے ہیں تاکہ جب ان کے بچے ان سے سوال کریں تو وہ درست جواب دے سکیں۔’مائی پیپر نامی‘ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیوشن سینٹر ماسٹری ورکشاپ میں لوگ 700 ڈالر ادا کرکے ریاضی کے سوالات حل کرتے ہیں۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے وہ آٹھ آٹھ گھنٹے آن لائن پر گزارتے ہیں۔سنگاپور میں اس جانب لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ وہاں ٹیوشن ایک بڑا کاروبار ہے جو ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ پر محیط ہے۔کسی سکول کی طرح اس آن لائن کلاس میں والدین کو ان کے موجودہ علم اور صلاحیت کے مطابق در جات میں رکھا جاتا ہے۔بعض والدین کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں ان کے بچوں کی مشکلات اور جدوجہد کا احساس ہوا ہے
جینیئس ینگ مائنڈ سینٹر کی پرنسپل نور ہدایہ اسمٰعیل کے مطابق ’بعض والدین یہاں ریاضی کی صفر معلومات کے ساتھ آتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے ساتھ بہت آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے۔‘بعض والدین نے بتایا کہ انھیں ان کلاسز سے ان کے بچوں کی مشکلات اور جدوجہد کو سمجھنے میں مدد ملی جبکہ بعض والدین کے لیے جنھوں نے بہت پہلے اس سے رشتہ توڑ لیا تھا ان کے لیے یہ علم اب ذرا پیچیدہ ہو گیا ہے۔محمد یوسف نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اس میں شرکت کی اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ’پہلا سوال ہی اتنا مشکل تھا کہ سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔‘بہر حال انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی اہلیہ کی سمجھ میں آ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…