پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

ایسی انقلابی اینٹی بائیوٹک کی دریافت جس کے نتائج نے خو د سائنسدانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا

datetime 8  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔بہت سے بیکٹیریا ایسے ہیں جنھوں نے اپنے اندر عام اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کر لی ہے۔امریکی سائنس دانوں نے کئی عشروں کے تعطل کے بعد ایک نئی اینٹی بائیوٹک دریافت کی ہے۔بیکٹیریا اگانے کے ایک منفرد طریقے سے 25 نئی اینٹی بائیوٹکس حاصل ہوئی ہیں، جن میں سے ایک کو بہت ’حوصلہ افزا‘ قرار دیا گیا ہے۔اینٹی بائیوٹکس کی آخری نئی قسم آج سے تقریباً تین عشرے قبل متعارف کروائی گئی تھی۔سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کو ’عہد ساز‘ قرار دیا گیا ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نئی دریافت محض ابتدا ہے جس کے بعد اس قسم کی مزید ادویات کی دریافت کا راستہ کھل جائے گا۔1950 اور 60 کی دہائیاں اینٹی بائیوٹکس کی دریافت کے سنہرے عشرے کہلائے جاتے ہیں۔ لیکن 1987 کے بعد سے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں بیکٹیریا سے لڑنے کے لیے کوئی نیا ہتھیار نہیں آیا۔اس کے بعد سے جراثیم نے بھی اپنے اندر غیرمعمولی قوتِ مدافعت پیدا کر لی ہے۔ خاص طور پر تپِ دق پیدا کرنے والے ایک خاص قسم کے جراثیم پیدا ہو گئے ہیں جن کے اندر متعدد جراثیم کش ادویات کے خلاف مدافعت موجود ہے۔امریکی شہر بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے نئی اینٹی بائیوٹک کی دریافت کے لیے پرانے ماخذ کی طرف رجوع کیا، یعنی مٹی۔مٹی میں جراثیم بہت بڑی تعداد میں جراثیم موجود ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک فیصد کو تجربہ گاہ میں اگایا جا سکتا ہے۔سائنس دانوں نے بیکٹیریا کے لیے ایک خاص قسم کا ماحول تیار کیا جسے انھوں نے ’زیرِ زمین ہوٹل‘ کا نام دیا۔ اس ہوٹل کے ہر ’کمرے‘ میں ایک ایک بیکٹیریا ڈال دیا گیا اور اس آلے کو مٹی میں دفنا دیا گیا۔

اس وقت جو ’جدید ترین‘ اینٹی بائیوٹکس بھی استعمال کی جا رہی ہیں وہ کم از کم تین عشرے پرانی ہیں
اس طرح بیکٹیریا کو اپنی افزائش کے لیے مٹی کا مخصوص ماحول دستیاب ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ سائنس دانوں کو ان کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی مل گیا۔اس کے بعد ان جراثیم سے ایک دوسرے کے خلاف جو کیمیائی مادے خارج ہوئے، ان کی جراثیم کش خصوصیات کا تجزیہ کیا گیا۔اس طریقے سے سائنس دانوں کو 25 نئی اینٹی بائیوٹکس ہاتھ آئیں، جن میں سے ایک ’ٹیکسوبیکٹن‘ سب سے زیادہ حوصلہ افزا نکلی۔تحقیق کے مرکزی سائنس دان پروفیسر کم لیوس نے کہا ’اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے تجربہ گاہ سے باہر اگائے جانے والے بیکٹیریا ایسے مخصوص کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جو ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ یہ جراثیم کش ادویات کا بہت حوصلہ افزا ماخذ ہے، اور ہمیں امید ہے کہ اس سے اینٹی بیکٹیریا کی دریافت کا نیا باب کھل جائے گا۔‘ٹیکسوبیکٹن پر تجربات سے معلوم ہوا کہ بیکٹیریا کے لیے تو مہلک ہے لیکن اس کے ممالیائی خلیوں پر کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔ چوہوں پر کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلا کہ یہ متعدد اینٹی بائیوٹکس کے لیے مدافعت رکھنے والے بیکٹیریا کے خلاف بھی موثر ہے۔
اب اس کے انسانوں پر تجربات کیے جائیں گے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ بیکٹیریا ٹیکسوبیکٹن کے خلاف مدافعت پیدا کر سکیں۔یہ چربی والے خلیوں کو ہدف بناتی ہے اور سائنس دان کہتے ہیں کہ اس کے خلاف مدافعت پیدا کرنا مشکل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…