اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کا راستہ کیسے کھل سکتا ہے،جانئے اس رپورٹ میں

datetime 8  جنوری‬‮  2015 |

نیو یارک۔۔۔۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کی طرف سے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی عالمی عدالت) کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے جس کے بعد اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم کے مقدمات دائر کیے جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
بان کی مون کے اس فیصلے سے اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بھرپور مخالفت کے باوجود ہیگ میں قائم عالمی عدالت یکم اپریل کے بعد سے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم پر مقدمات چلا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیون یوجرک نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس فیصلے سے آئی سی سی کے رکن ممالک کو منگل کی شام کو آگاہ کر دیا تھا۔
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل نے اس بات کی تصدیق کر لی ہے کہ فلسطین کی طرف سے یہ درخواست قواعد کے مطابق دی گئی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے آئی سی سی اور دیگر 16 عالمی معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط 31 دسمبر کو سلامتی کونسل کی طرف سے ان کی ایک قرارداد رد کیے جانے کے ایک دن بعد کیے تھے۔
امریکی ردِعمل
امریکہ نے فلسطین کی طرف سے آئی سی سی کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا منفی اثر ہوگا۔امریکی کانگریس نے بھی فلسطینیوں کو دی جانے والی 44 کروڑ ڈالر کی امداد روک لینے کی دھمکی دی ہے۔اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے اس اقدام کے رد عمل میں 12 کروڑ سات لاکھ ڈالر کے محصولات روک لیے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے فلسطین کے خلاف اور بھی اقدامات کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے فلسطین کی طرف سے آئی سی سی کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا منفی اثر ہوگا۔امریکی کانگریس نیبھی 44 کروڑ ڈالر کی امداد روک لینے کی دھمکی دی ہے۔فلسطین نے آئی سی سی سے کہا ہے کہ وہ گذشتہ سال غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کشی کے دوران ممکنہ جنگی جرائم کے واقعات کی چھان بین کرے۔گذشتہ برس 50 دن تک غزہ پر اسرائیل کی فوج کشی کی وجہ سے 2200 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے جن میں چار سو سے زیادہ بچے بھی شامل تھے۔اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا ہے کہ فلسطین آئی سی سی میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں بھی ایک درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اقوام متحدہ نے سنہ 2012 میں فلسطین کی حیثیت مبصر سے بڑھا کر مبصر ملک کی کر دی تھی جس کے بعد فلسطین کو اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی رکنیت حاصل کرنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔آئی سی سی میں رکنیت حاصل کرنا مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی فلسطینی حکام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…