اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملتان سینٹرل جیل میں دو شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی

datetime 7  جنوری‬‮  2015 |

ملتان۔۔۔۔ پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان کی سینٹرل جیل میں قید کالعدم تنظیم کے دو شدت پسندوں کو بدھ کی علی الصبح پھانسی دے دی گئی ہے۔شدت پسند علی احمد عرف شیش ناگ اور غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔علی احمد عرف شیش ناگ نے سات جنوری سنہ 1998 کو مذہبی تنازع پر تین افراد کو جبکہ غلام شبیر عرف ڈاکٹر نے اکتوبر سنہ 1998 میں ڈی ایس پی خانیوال اور ان کے ڈرائیور کو قتل کیا تھا۔شدت پسند غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو بدھ کی صبح 5:34 پر پھانسی دی گئی۔
پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ان دونوں شدت پسندوں کی رحم کی ایپلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر ممنون حسین نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دیے جانے کے موقع پر جیل اور اطراف میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔اس موقع پر فوجی دستے جیل کے باہر جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار جیل کے اندر تعینات تھے۔پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…