منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملتان سینٹرل جیل میں دو شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی

datetime 7  جنوری‬‮  2015 |

ملتان۔۔۔۔ پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان کی سینٹرل جیل میں قید کالعدم تنظیم کے دو شدت پسندوں کو بدھ کی علی الصبح پھانسی دے دی گئی ہے۔شدت پسند علی احمد عرف شیش ناگ اور غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔علی احمد عرف شیش ناگ نے سات جنوری سنہ 1998 کو مذہبی تنازع پر تین افراد کو جبکہ غلام شبیر عرف ڈاکٹر نے اکتوبر سنہ 1998 میں ڈی ایس پی خانیوال اور ان کے ڈرائیور کو قتل کیا تھا۔شدت پسند غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو بدھ کی صبح 5:34 پر پھانسی دی گئی۔
پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ان دونوں شدت پسندوں کی رحم کی ایپلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر ممنون حسین نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔ملتان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دیے جانے کے موقع پر جیل اور اطراف میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔اس موقع پر فوجی دستے جیل کے باہر جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار جیل کے اندر تعینات تھے۔پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…