منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قومی اسمبلی نے 21 ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دے دی

datetime 6  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے 21 ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دے دی ہے اور اس آئینی ترمیم کے حق میں 247 اراکین نے ووٹ دیے۔ووٹنگ کے عمل میں جماعت اسلامی اور حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حصہ نہیں لیا۔21 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا تو پیپلز پارٹی نے ساتھ دیا کہ اگر اس سے پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے تو جماعت حکومت کے ساتھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہم سب مشکل فیصلوں کے لیے جمع ہیں تاکہ پاکستانی عوام اور زمین کو محفوظ اور بچا سکیں۔‘انھوں نے کہا کہ یہ ترامیم ان لوگوں کے لیے ہیں جو دھماکوں اور قتل و غارت میں ملوث ہیں۔ ’یہ ترامیم ان کے لیے ہیں جو سلمان تاثیر کی یاد میں شمعی جلانے والوں پر حملہ کرتے ہیں۔‘قومی اسمبلی میں 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم پر بحث پیر کے روز شروع کی گئی تھی۔پیر کو بحث کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ترمیم کا جمہوریت سے تضاد تو ہے لیکن ملک کی غیرمعمولی صورتحال میں یہ ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جس کا دیکھنے میں اور کہنے میں تو پارلیمنٹ سے اور جمہوری نظام حکومت سیایک تضاد ہے۔ یہ بات چند سال پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتی تھی کہ اس ایوان میں ملٹری کورٹس پر قانون سازی ہوگی مگر صرف قانون سازی نہیں ہو گی بلکہ محدود وقت کے لیے ایک آئینی تبدیلی کے ذریعے اسے قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔‘انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں حالت جنگ میں قائم کی جاتی ہیں اور پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی تھی جبکہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کو اجلاس شروع ہونے سے پہلے آئینی ترمیم کے لیے کی جانے والی ووٹنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد میں پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مدارس کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے متوقع اقدامات اور کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اپنے اشتہارات میں یہ تصور پیش کر رہی ہے کہ مدارس دہشت گردوں کے مراکز ہیں۔
واضح رہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری کے بعد مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:
پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والیفوج اور قانون نافذ کرنے والے
اداروں پر حملہ کرنے والیاغوا برائے تاوان کے مجرم
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والیدھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد
دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے
بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…