بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دنیائے انٹرنیٹ کی کرنسی۔ آپ بھی آنے والے دور میں یہی استعمال کر رہے ہونگے

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

انسانی زندگی میں پیسوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نئے انداز کے سکے سامنے آتے رہے ہیں اب چاہے وہ سونے کی اشرفی کی صورت میں ہو یا کانسی کا سکہ وغیرہ ۔

مگر موجودہ عہد ٹیکنالوجی کا قرار دیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا بھی اپنی کرنسی سے محروم رہے اور اس کمی کو پورا کیا ہے بٹ کوائن نے۔

بِٹ کوائن حالیہ عرصے میں تیزی سے ابھرنے والی ایک مقبول ڈیجیٹل ورچوئل کرنسی ہے جس کے ذریعے لوگ آن لائن کمپنیوں سے مصنوعات اور خدمات خرید لیتے ہیں۔

تاہم کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔

اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جارہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔

بٹ کوائنز کے چند نمایاں فیچرز

اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکاﺅنٹ ہونا چاہئے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈاﺅن لوڈ کرکے بنایا جاسکتا ہے۔ والٹ اکاﺅنٹس کو پے پال، کریڈ کارڈز یا بینک اکاﺅنٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مائیکروسافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں 12 ملین بٹ کوائن گردش کررہے ہیں۔

ایک بٹ کوائن 283.90 ڈالرز کا ہے جس سے اس کی ویلیو کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے تاہم ایکسچینج ریٹ اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے کیونکہ دنیا بھر کی حکومتیں اکثر ان سکوں پر پابندی کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں مگر اس کے باوجود اس کے استعمال کی شرح مین بہت تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے بڑی کمپنیاں انہیں آن لائن خریداری کے لیے قبول کرنے لگی ہیں۔

اس ڈیجیٹل کرنسی کے نقصان اور چوری کے مقابلے میں بٹ کوائن انشورنس سروس متعارف کرائی ہے ، جس میں ڈیپ کولڈ سٹوریج کو استعمال کیا گیا ہے، جہاں بٹ کوائنز کی خفیہ کیز کو محفوظ مقام پر سٹور کیا جاتا ہے۔

اس کرنسی کے اے ٹی ایمز بھی اب مختلف شہروں میں کھلنا شروع ہوگئے ہیں خاص طور پر کینیڈا اور امریکا میں تو وہ کام کررہے ہیں جبکہ ان سکوں کو بنانے والی کمپنی کے مطابق بہت جلد انہیں دنیا کے اہم ترین شہروں میں بھی نصب کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…