جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

وہ ارب پتی جنہوں نے اپنی تجوریاں غریبوں کے لئے کھول کر انسانیت کو امر کردیا

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

نیویارک: یوں تو دنیا میں کئی لوگ ارب پتی اور کروڑ پتی ہیں تاہم کم ہی ایسے ہیں جو اپنی دولت کو غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں لیکن 2014 میں 3 ایسے ارب پتی افراد بھی تھے جنہوں نے اپنی دولت کو نہ صرف غریبوں پر خرچ کیا بلکہ پانی کی طرح بہا دیا۔

امریکی مقناطیس بنانے والی کمپنی اور بفیلوبلز فٹبال ٹیم کے مالک 95 سالہ ارب پتی رالف ولسن نے سال  2014 میں چیریٹی کی مد میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرکے حاتم طائی ہونے کا ثبوت دیا، انہوں نے گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں مرنے سے قبل اپنی رقم میں سے ایک ارب ڈالر غریب اور بے گھر افراد پر خرچ کرنے کے لیے وقف کردیئے،  فیس بک کے بانی زکر برگ نے 990 ڈالر چیریٹی فنڈ میں دے کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن رالف ولسن ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئے۔

دوسری شخصیت جس نے اپنی دولت کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیا وہ تھے امریکی ریاست کونیکٹیکٹ کے 83 سال کے ارب پتی ڈیڈ اسٹین لے جنہوں نے 65 کروڑ ڈالر مینٹل ریسرچ کے نام کرکے اپنا نام انسانی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھوالیا اور اب جب بھی دماغی بیماریوں پر تحقیق ہوگی تو ان کا نام لیا جاتا رہے گا۔ اسٹین لے کھیلوں اور دیگر یادگار کو بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں اور اسی نے انہیں ارب پتی بنا دیا۔ اسٹین لےکا  کہنا تھا کہ ان کا بیٹا جوناتھن بائی پولر نامی ذہنی بیماری کا شکار تھا اور اسی نام سے تیار کی گئی دوا نے اس کے بیٹے کی زندگی بچائی۔

تیسری شخصیت ایک 39 سال کے کھلاڑی نکولس ووڈ مین کی ہے جس نے سمندر کی موجوں پر سرفنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری اور پھر ایک کیمرہ بنانے والی کمپنی بنا ڈالی اور اس دوران کمائی جانے والی اپنی دولت میں سے 50 کروڑ ڈالر تعلیم اور تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیلیکون ویلی کیمونٹی فاؤنڈیشن کے نام کردیئے اور ثابت کردیا کہ دولت صرف کمانے کے لیے نہیں بلکہ ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…