اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ ارب پتی جنہوں نے اپنی تجوریاں غریبوں کے لئے کھول کر انسانیت کو امر کردیا

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

نیویارک: یوں تو دنیا میں کئی لوگ ارب پتی اور کروڑ پتی ہیں تاہم کم ہی ایسے ہیں جو اپنی دولت کو غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں لیکن 2014 میں 3 ایسے ارب پتی افراد بھی تھے جنہوں نے اپنی دولت کو نہ صرف غریبوں پر خرچ کیا بلکہ پانی کی طرح بہا دیا۔

امریکی مقناطیس بنانے والی کمپنی اور بفیلوبلز فٹبال ٹیم کے مالک 95 سالہ ارب پتی رالف ولسن نے سال  2014 میں چیریٹی کی مد میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرکے حاتم طائی ہونے کا ثبوت دیا، انہوں نے گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں مرنے سے قبل اپنی رقم میں سے ایک ارب ڈالر غریب اور بے گھر افراد پر خرچ کرنے کے لیے وقف کردیئے،  فیس بک کے بانی زکر برگ نے 990 ڈالر چیریٹی فنڈ میں دے کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن رالف ولسن ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئے۔

دوسری شخصیت جس نے اپنی دولت کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیا وہ تھے امریکی ریاست کونیکٹیکٹ کے 83 سال کے ارب پتی ڈیڈ اسٹین لے جنہوں نے 65 کروڑ ڈالر مینٹل ریسرچ کے نام کرکے اپنا نام انسانی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھوالیا اور اب جب بھی دماغی بیماریوں پر تحقیق ہوگی تو ان کا نام لیا جاتا رہے گا۔ اسٹین لے کھیلوں اور دیگر یادگار کو بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں اور اسی نے انہیں ارب پتی بنا دیا۔ اسٹین لےکا  کہنا تھا کہ ان کا بیٹا جوناتھن بائی پولر نامی ذہنی بیماری کا شکار تھا اور اسی نام سے تیار کی گئی دوا نے اس کے بیٹے کی زندگی بچائی۔

تیسری شخصیت ایک 39 سال کے کھلاڑی نکولس ووڈ مین کی ہے جس نے سمندر کی موجوں پر سرفنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری اور پھر ایک کیمرہ بنانے والی کمپنی بنا ڈالی اور اس دوران کمائی جانے والی اپنی دولت میں سے 50 کروڑ ڈالر تعلیم اور تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیلیکون ویلی کیمونٹی فاؤنڈیشن کے نام کردیئے اور ثابت کردیا کہ دولت صرف کمانے کے لیے نہیں بلکہ ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…