بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب، پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

غلطی سے ایل او سی پار کرنیوالی 12 سالہ بچی کو حوالے کئے جانے کے اگلے ہی روز 2 پاکستانی جوانوں کوفلیگ میٹنگ کے نام پر بلا کر شہید کردیا.
2014 میں پاکستان نے غلطی سے کنٹرول لائن پار کرنے والے متعدد افراد کو واپس بھیج دیا.
بھارتی فوج نے غلطی سے جانیوالے افراد میں سے 2 کی لاشیں دیں، ایک تاحال لاپتہ ہے.
دفاعی تجزیہ کاروں کاشدید تشویش کا اظہار،عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ.
بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا شروع ہوگیا ہے، اس نے پاکستان کی طرف سے تعلقات میں بہتری کی تمام کوششوں کا ہمیشہ منفی جواب دیا ہے اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے غلطی سے کنٹرول لائن پار کرنے والی 12 سالہ بچی کو بھارتی فوج کے حوالے کئے جانے کے ہمدردی کے جذبے کا جواب اگلے ہی روز 2 پاکستانی جوانوں کوفلیگ میٹنگ کے نام پر بلا کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا. 2014 کے دوران پاکستان کی طرف سے متعدد افراد کو غلطی سے کنٹرول لائن کے اس طرف آنے پر واپس بھیج دیا گیا، جبکہ بھارتی فوج کی طرف سے پاکستان کے غلطی سے ایل او سی پار کرنے والے افراد میں سے 2 کی لاشیں دی گئیں اور ایک تاحال لاپتہ ہے۔اس صورت حال پر دفاعی تجزیہ کاروں کاشدید تشویش کا اظہار کیا ہے. ذرائع کے مطابق کنٹرول لائن پر حاجی پیر سیکٹر پر 12 سالہ لڑکی نسرین غلطی سے اس طرف آگئی تھی جسے بھارتی فوج کے حوالے سے کر دیا گیا ۔چند ہفتے قبل ایک بھارتی منظر حسین جو مقبوضہ کشمیر کے علاقے جہاں نگر کا رہنے والا تھا کھوئی رٹہ سیکٹر میں غلطی سے پاکستان کی طرف آگیاجسے14 نومبر کو بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔ذرائع کے مطابق قبل ازیں9 اگست کو بھی پاکستان رینجرز نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ستیاشیل یادیوکو بھارتی حکام کے حوالے کیا جو بجوات سیالکوٹ سیکٹر کے قریب پاکستانی علاقے میں غلطی سے آگیا تھا. دوسری جانب بھارتی حکام نے ہمیشہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی اور دسمبر 2013 کو ڈی جی ایم اوز کے ہونے والے اجلاس میں طے شدہ فیصلوں کی دھجیاں اڑانے کا معمول بنا لیا ۔اس سال14 جون کو بھارت نے کنٹرول لائن کے قریب جندروٹ سیکٹر میں 60 سالہ چن حسین کو پکڑا جو کنٹرول لائن کے قریب گھاس کاٹ رہا تھا اور آج تک اسے واپس نہیں کیا گیا۔6اگست کو مندھیر سیکٹر میں بھی ایل او سی کے قریب گھاس کاٹنے والے کالا خان کو بھارتی فوجیوں نے اٹھایا اور بعد ازاں اسے شہید کر کے9اگست کو اس کی لاش واپس کی ۔28 نومبر کو بھی بھارت نے چیڑی کوٹ سیکٹر میں 70 سالہ محمد دین کو شہید کیا جب وہ ایل او سی کے قریب اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا اور اگلے ہی روز 29 اکتوبر کو بھارتی بی ایس ایف نے ورکنگ باؤنڈری پر 30 سالہ پاکستانی توقیر کو شکر گڑھ سے اٹھایا اور بعد ازاں اسے شہید کر کے لاش واپس کی ۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھی بے گناہ افراد کو گھروں سے اٹھا کر کنٹرول لائن کے قریب لانے کے بعد بھارتی فوج کی طرف سے انہیں جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اور حال ہی میں 2010 میں منچیل سیکٹر میں 3 بے گناہ شہریوں کو قتل کر نے پر 2 افسروں سمیت7 بھارتی فوجیوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ان تین نوجوانوں شہزاد احمد خان،ریاض احمد لون اور محمد شفیع لون کو روز گار دلوانے کے بہانے بھارتی فوج لے گئی تھی اور بعد ازاں اسے دہشت گرد قرار دیکر ہلاک کر دیا تھا۔بھارتی فوجی حکام نے یہ دعوی کیا تھا کہ یہ لوگ پاکستان کی طرف سے داخل ہو رہے تھے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے بے گناہ پراپیگنڈہ کے ذریعے پاک فوج اور پاکستان کو بدنام کیا جاتا ہے جبکہ یہ مذکورہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت نے ہمیشہ خیر سگالی کے جذبے کا جواب لاشیں دیکر کیا ہے۔تجزیہ کاروں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کی ان حرکات پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کا نوٹس لینا چاہیے تا کہ وہ آئندہ بے گناہ شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا چھوڑ دے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…