اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سچن ٹنڈولکر کیوں برہم ? کلک کر کے پڑھں

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔سچن ٹنڈولکر نے کرکٹ اکیڈمی کے قیام کی غرض سے اپنا نام استعمال کیے جانے پر برہمی کا اظہار کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارت برائے افرادی قوت نے ا ئی ٹی ٹی دہلی سے اکیڈمی گراؤنڈ کیلیے زمین مانگی تھی، جس پر دباؤ کا شکار ادارے کے ڈائریکٹر مستعفی ہوگئے تھے، حکام نے انھیں کہا تھا کہ اس جگہ پر ٹنڈولکر اکیڈمی قائم کرنا چاہتے ہیں، تاہم ماسٹر بیٹسمین ٹنڈولکر نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کردیا۔انھوں نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ کچھ لوگوں نے میرے نام سے کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کیلیے دہلی میں ایک ادارے سے زمین مانگی ہے، لیکن میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی میں نے اس مقصد کیلیے کسی ادارے سے زمین مانگی ہے، ٹنڈولکر نے یہ وضاحتی بیان میڈیا میں ا نے والی ان رپورٹس کے بعد دیا، جس میں انڈین انسٹی ٹیوٹ ا ف ٹیکنالوجی (ا ئی ٹی ٹی) دہلی کے ڈائریکٹر رگھوناتھ کے شیواگوناکر نے وزارت برائے افرادی قوت کی جانب سے ٹنڈولکر کے نام سے کرکٹ اکیڈمی کیلیے گراؤنڈ دیے جانے پر پڑنے والے دباؤ کے نتیجے میں عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ٹنڈولکر نے مزید کہا کہ میری خواہش ہے میرے نام سے کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے قبل حقائق کو چیک کرلینا چاہیے، میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔دوسری جانب ٹنڈولکر نے ملک کے دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کو اپنا نیا مقصد بنالیا، راجیہ سبھا کے رکن ٹنڈولکر نے کہا کہ میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اطمینان کیلیے کام کرنا چاہتا ہوں، میرا منصوبہ ہے کہ ملک کے ایسے دیہات میں بجلی کی فراہمی یقینی بنادوں جہاں سورج ڈھلتے ہی کاروبار زندگی بند ہوجاتا ہے۔
بھارت کے بہت سے دیہات اور قصبے ابھی تک بجلی سے محروم ہیں، میں انھیں روشنیوں میں لانا چاہتا ہوں، مجھے یقین ہے میں اپنی نئی مہم کیلیے لوگوں سے خاطرخواہ حمایت پانے میں کامیاب ہوجاؤں گا، ٹنڈولکر نے حکومتی پالیسی کے تحت ا?ندھرا پردیش کے گاؤں پٹاماروجا کنڈریکا گاؤں کی ذمے داری لی ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…