منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

محمد اخلاص روسی کی میت ماسکو روانہ کر دی گئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم محمد اخلاص روسی کی میت جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ماسکو روانہ کر دی گئی ہے۔اسلام آباد بینظیر انٹرنیشل ایئرپورٹ پر تعینات وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ روس کا ایک خصوصی چارٹر طیارہ اخلاص روسی کی میت لے کر ماسکو روانہ ہو گیا ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق اس موقعے پر روسی سفارت خانے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے اہلکار بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔یاد رہے کہ 21 دسمبر کو اخلاص روسی کو صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد کی جیل میں تین دیگر مجرمان کے ہمراہ پھانسی دی گئی تھی۔ چاروں افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سْنائی گئی تھی اور ان کے موت کے پروانوں پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دستخط کیے تھے۔اخلاص کے والد کا تعلق پاکستان میں زیر انتظام کشمیر کے گاوں کوکوٹہ سے ہے جبکہ ان کی والدہ روسی ہیں۔اخلاص کی لاش کو 22 دسمبر کو ان کے والد ڈاکٹر اخلاق نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں اپنے آبائی گاوں میں امانتاً دفن کروا دیا تھا۔اسی دوران اخلاص روسی کی والدہ ویتلانا ویلنتونا روس سے اسلام آباد پہنچ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے بیٹے کی قبر پر جانا چاہتی تھیں تاہم اْن کے شوہر کے مطابق متعقلہ حکام نے اْنھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔مقامی پولیس کے مطابق اخلاص کے ورثا نے متعلقہ حکام کی اجازت سے قبر کشائی کر کے اخلاص کی میت اسلام آباد کے لیے روانہ کر دی گئی تاہم اسلام اباد پولیس نے اخلاص کی لاش اور ایمبولنس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔روسی نڑادپھانسی پانے والے 34 سالہ اخلاص احمدکی پاکستان اور روس کی دوہری شہریت تھی اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔ان کو دسمبر 2003 کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ہونے والے حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد آرمی چیف نے ان کی موت کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔اخلاص کو 21 دسمبر کو فیصل آباد میں پھانسی دی گئی۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان ڈاکٹر وسیم کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار جمعرات کی شب اخلاص کی میت کو مردہ خانے رکھوانے کے لیے لائے تاہم حکام کی اجازت کے بعد اخلاص روسی کی میت کو مردہ خانے میں رکھ دیا گیا۔اْنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اور روسی سفارت خانے کے عملے کے دوران ہونے والے مذاکرات کے بعد اخلاص کی میت کو روسی سفارت خانے کے عملے کے حوالے کر دی گئی جسے لے کر روسی سفارت کار خصوصی طیارے کے ذریعے ماسکو روانہ ہو گئے۔پھانسی پانے والے 34 سالہ اخلاص احمدکی پاکستان اور روس کی دوہری شہریت تھی اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔ اخلاص احمد پر دسمبر 2003 کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ہونے والے حملے کا الزام تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…