اسلام آباد۔۔۔۔یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت پر پابندی اٹھانے کے معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پابندی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر لارس گنار وگیمارک کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سزائے موت موثر ہتھیار نہیں۔سفیر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو حکومت پاکستان کی جانب سے سزائے موت پر پابندی اٹھانے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔انھوں نے پابندی کو جلد از جلد دوبارہ عائد کرنے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کسی بھی طرح کی صورتحال میں سزائے موت کے خلاف ہے۔تاہم لارس گنار نے یقین دلایا کہ یورپی یونین سانحہ پشاور کے بعد غم کی اس گھڑی میں حکومت پاکستان کے ساتھ ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے عزم اور کوششوں کو بھی سراہتی ہے۔واضح رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے نتیجے میں 133 بچوں سمیت 144 افراد کی ہلاکت کے بعد 17 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات میں قید مجرموں کی سزائے موت پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یورپی یونین نے سزائے موت پر پابندی بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
لکڑی کا تختہ
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار



















































