جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا گیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے یہ حکم سابق چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور سابق وزیرِ قانون زاہد حامد کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر دیا۔ان تینوں افراد کو خصوصی عدالت نے 21 نومبر کو اپنے فیصلے میں غداری کے مقدمے میں شریک ملزم بنانے کا حکم دیا تھا۔تینوں درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ کسی فرد کو شریکِ جرم بنانے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں بلکہ صرف وفاق کے پاس ہے اور خصوصی عدالت نے اس سلسلے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ کسی تفتیشی ادارے کو یہ ذمہ داری سونپتی کہ ان تینوں افراد پر عائد الزامات کا جائزہ لے رپورٹ پیش کرے۔منگل کو سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے مدعیان سے استفسار کیا کہ کس طرح ایک خصوصی عدالت یا بینچ کو کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔جس پر درخواست گزاروں کے وکلا خواجہ حارث، وسیم سجاد اور افتخار گیلانی نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم جوڈیشل کونسل کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف زیرِ سماعت صدارتی ریفرنس کی سماعت سے ایک عدالتی حکم نامے کے ذریعے روکا گیا تھا اور پھر ایک فل کورٹ بینچ نے اس ریفرنس کی سماعت کی تھی۔درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک ان کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک خصوصی عدالت کی کارروائی روک دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔اس پر عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ انھیں خصوصی عدالت کی کارروائی روکنے پر کوئی اعتراض تو نہیں اور ان کی جانب سے اعتراض نہ کیے جانے پر جسٹس اطہر من اللہ نے خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے تین فروری 2015 کی تاریخ مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔
تاہم اس وقت تک سنگین غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت کی کارروائی معطل رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…