اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پشاورمیں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ماسٹر مائنڈ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

ڈیرہ اسماعیل خان: پشاور میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے سفاک اور درندہ صفت طالبان کے ساتھی اور حملے کے ماسٹر مائنڈ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ فوجی آپریشن کے دوران ہماری مرنے والی عورتوں اور بچوں کا انتقام ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے پر جاری ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کوعمر منصور کے نام سے دکھایا گیا ہے اور ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ شخص پشاور میں آرمی اسکول پر حملے میں 132 معصوم بچوں سمیت 144 افراد کی شہادت کا ماسٹر مائنڈ ہے، ویڈیو میں سفاک اوردرندہ صفت شخص منصور کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ اگر ان کی عورتیں اور بچے مررہے ہیں تو ان کے بچے کیسے بچ سکتے ہیں اور ہم اسی انداز میں لڑکر معصوموں سے اس کا انتقام لیں گے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے برطانوی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر منصور ہی تھا اور وہ ملا فضل اللہ کا قریبی ساتھی اور 3 بچوں کا باپ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ منصور نے ہائی اسکول تک تعلیم اسلام آباد کے ایک اسکول میں حاصل کی اور پھر مدرسے میں داخلہ لے لیا، وہ کم عمری سے ہی لڑنے کا ماہر تھا اور اکثر دوسرے لڑکوں سے لڑتا تھا، طالبان میں شمولیت سے قبل منصور نے کچھ عرصے مزدور کی حیثیت سے کراچی میں کام کیا۔ منصور عرف عام میں ناری یعنی ’’سلم‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور اسے والی بال کھیلنے کا شوق تھا جب کہ وہ حکومت سے بات چیت کا سخت مخالف تھا۔
واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے پشاور میں آرمی اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کا جواب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…