جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی بھی پاکستانی امریکہ کو قابلِ اعتبار اتحادی تسلیم نہیں کرتا،پرویز مشرف

datetime 18  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی امریکہ کو قابلِ اعتبار اتحادی تسلیم نہیں کرتا۔بدھ کی شب بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے سے اپنے طریقے سے نمٹ رہا ہے اور جب تک دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ساتھ لڑنی ہے، تب تک اس کی حکمتِ عملی کو پاکستان پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔پاکستان میں دو روز قبل پشاور میں طالبان کے حملے میں 132 بچوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی شدت پسندوں سے لڑنے کی صلاحیت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آیا ہے۔اس حملے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو انجام تک پہنچانے اور اچھے یا برے طالبان کی تمیز نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جنرل مشرف نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ اتنے برسوں میں جو میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار اتحادی نہیں سمجھا جاتا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ہم امریکہ کو بہت قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔ یہ ہر پاکستانی کی رائے ہے۔‘ان مسائل سے پاکستان اور افغانستان دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اِس لیے، حالات پر قابو پانے میں فرق آ جاتا ہے۔ جب مسائل سے نمٹنے کا وقت آتا ہے تو اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں جب آپ لوگ، یعنی مغربی طاقتیں، چھوٹے چھوٹے معاملات اور طریق کار میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے پاس’افغانستان کے مسئلے سے نمٹنے کا اپنا طریقہ ہے اور ہمارے پاس مسائل سے نمٹنے کا اپنا طریقہ ہے چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔‘
سابق صدر نے کہا کہ ’ان مسائل سے پاکستان اور افغانستان دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اِس لیے، حالات پر قابو پانے میں فرق آ جاتا ہے۔ جب مسائل سے نمٹنے کا وقت آتا ہے تو اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں جب آپ لوگ، یعنی مغربی طاقتیں، چھوٹے چھوٹے معاملات اور طریق? کار میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مغربی ممالک پاکستان کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے اس لیے ’میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سٹریٹجک سطح پر ساتھ ہیں۔ طریق? کار ہمیں ہی طے کرنے دیں۔‘پرویز مشرف نے کہا کہ ہر ملک کے مسائل اور اندرونی صورتحال مختلف ہوتی ہے اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں مغرب میں وہ جو اس صورتحال سے براہ راست متعلق یا پوری طرح باخبر نہیں، سمجھتے ہیں کہ سب ڈبل گیم کھیل رہے ہیں لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔‘’ہم تو صورتحال سے دستیاب وسائل کی مدد سے ہر ممکن طریقے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…