اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کوئی بھی پاکستانی امریکہ کو قابلِ اعتبار اتحادی تسلیم نہیں کرتا،پرویز مشرف

datetime 18  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی امریکہ کو قابلِ اعتبار اتحادی تسلیم نہیں کرتا۔بدھ کی شب بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے سے اپنے طریقے سے نمٹ رہا ہے اور جب تک دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ساتھ لڑنی ہے، تب تک اس کی حکمتِ عملی کو پاکستان پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔پاکستان میں دو روز قبل پشاور میں طالبان کے حملے میں 132 بچوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی شدت پسندوں سے لڑنے کی صلاحیت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آیا ہے۔اس حملے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو انجام تک پہنچانے اور اچھے یا برے طالبان کی تمیز نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جنرل مشرف نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ اتنے برسوں میں جو میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار اتحادی نہیں سمجھا جاتا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ہم امریکہ کو بہت قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔ یہ ہر پاکستانی کی رائے ہے۔‘ان مسائل سے پاکستان اور افغانستان دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اِس لیے، حالات پر قابو پانے میں فرق آ جاتا ہے۔ جب مسائل سے نمٹنے کا وقت آتا ہے تو اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں جب آپ لوگ، یعنی مغربی طاقتیں، چھوٹے چھوٹے معاملات اور طریق کار میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے پاس’افغانستان کے مسئلے سے نمٹنے کا اپنا طریقہ ہے اور ہمارے پاس مسائل سے نمٹنے کا اپنا طریقہ ہے چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔‘
سابق صدر نے کہا کہ ’ان مسائل سے پاکستان اور افغانستان دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اِس لیے، حالات پر قابو پانے میں فرق آ جاتا ہے۔ جب مسائل سے نمٹنے کا وقت آتا ہے تو اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں جب آپ لوگ، یعنی مغربی طاقتیں، چھوٹے چھوٹے معاملات اور طریق? کار میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مغربی ممالک پاکستان کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے اس لیے ’میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سٹریٹجک سطح پر ساتھ ہیں۔ طریق? کار ہمیں ہی طے کرنے دیں۔‘پرویز مشرف نے کہا کہ ہر ملک کے مسائل اور اندرونی صورتحال مختلف ہوتی ہے اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں مغرب میں وہ جو اس صورتحال سے براہ راست متعلق یا پوری طرح باخبر نہیں، سمجھتے ہیں کہ سب ڈبل گیم کھیل رہے ہیں لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔‘’ہم تو صورتحال سے دستیاب وسائل کی مدد سے ہر ممکن طریقے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…