اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں، وزیراعظم

datetime 17  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور۔۔۔۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور آپریشن ضرب عضب کے منطقی انجام تک پہنچنے سے ہی ملک میں دائمی امن قائم ہوگا۔گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان کا اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سمیت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اعتزاز احسن، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، قومی وطن پارٹی کے ا?فتاب شیر پاؤ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور رکن قومی اسمبلی طارق اللہ ،جے یو ا?ئی (ف) کے مولاناعبد الغفور حیدری اور اکرم درانی، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور وزیراعظم کے مشیر امیر مقام شریک ہیں۔
اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز پشاور میں ہونے والے واقعے کی دنیا میں تاریخ نہیں ملتی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں معاشی نقصان اٹھایا وہیں بڑے بھاری زخم بھی کھائے ہیں، ہم نے دہشت گردوں سے بات چیت بھی کی لیکن اس کے نتائج سب کیسامنے ہیں، جس کے بعد کراچی ایئرپورٹ پرحملے کے بعد ہمیں ضرب عضب آپریشن کو انتہائی سوچ و بچار کے بعد شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے، اس دوران فوج نے دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، کل کے سانحے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں، آپریشن ضرب عضب کے منطقی انجام تک پہنچنے سے ہی ملک میں دائمی امن قائم ہوگا، ہمیں شہید ہونیوالے معصوم بچوں کے چہروں کو سامنے رکھ کر یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ اگر ہم نے اپنا جذبہ قائم رکھا تو اس قسم کے مناظر ہمیں دوبارہ نظر نہیں آئیں گے۔
وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں افغانستان کے صدراشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی مثبت گفتگو ہوئی اور یہ طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں گزشتہ رات ان کی افغان صدر سے بات ہوئی، اس دوران یہ طے پایا کہ دونوں ممالک تعلقات کی خرابی کی وجہ بننے والے عناصر کے خلاف آپریشن کریں گے، اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کابل پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات عسکری قیادت سے میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں دہشتگردی میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی تکمیل اور سزا دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سیکڑوں مقدمات برسوں برس بعد بھی زیر التوا ہیں۔ اس لئے قانونی سقم کی دوری تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیاب نہیں ہوسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…