اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

الطاف حسین نے لندن اور کراچی کی رابطہ کمیٹیاں معطل کردیں

datetime 10  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔۔متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لندن اور کراچی کی رابطہ کمیٹیاں معطل کردیں جب کہ قمر منصور کو کراچی اور ارشد حسین کو لندن رابطہ کمیٹی کا قائم مقام انچارج مقررکردیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق ایم کیوایم قائد نے ایک مرتبہ پھررابطہ کمیٹیاں معطل کردیں۔ ذرائع کے مطابق الطاف حسین نے سیالکوٹ میں پارٹی کے ضلعی نائب صدر باؤ محمد انور کے قتل پر فوری طور پر ردعمل نہ دینے اور ارکان کی کارکردگی پرشدید غم و غصے کا اظہار کیا اور قمر منصور کو کراچی اورارشد حسین کو لندن کی رابطہ کمیٹی کا قائم مقام انچارج مقررکردیا جو ا ئندہ کے اعلان تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ نائن زیرو پرکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین سیالکوٹ میں ا ج قتل ہونے والے ضلعی نائب صدر باؤ انور کے قتل پر ا بدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ظلم و ستم کے باوجود کارکنوں کو صبر کی تلقین کی لیکن صبر اور برداشت کی بھی ہوئی حد ہوتی ہے،اگر ہمارے کارکنوں کو مارا جاتا رہا تو قرا ن پاک کی ا یت کی روشنی میں ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور جان کے بدلے جان لینے کا حق رکھتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نصرت جاوید اور اسلم ا فریدی کو قائم مقام انچارج قمرمنصور کا معاون مقررکیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نائن زیرو آنے والے متحدہ قومی موومنٹ کیارکان اسمبلی کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے 23 مئی کو بھی ایم کیو ایم پاکستان و لندن رابطہ کمیٹی اور نائن زیرو کی ایڈمن کمیٹی تحلیل کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…