ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

سنہ 2014 میں 20کروڑ 30 لاکھ بچوں کی زندگیاں جنگوں نے برباد کر دیں،یونیسف

datetime 9  دسمبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2014 میں ایک اندازے کے مطابق 20 کروڑ 30 لاکھ بچے ایسے ممالک یا علاقوں میں ہیں جہاں مسلح تصادم جاری ہے۔یونیسف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ایفریقن ریپبلک، عراق، جنوبی سوڈان، فلسطین، شام اور یوکرین میں ڈیڑھ کروڑ بچے پرتشدد کارروائیوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال اسرائیل کی جانب سے 50 روزہ کارروائیوں میں 538 بچے ہلاک، تین ہزار سے زائد زخمی جبکہ ڈیڑھ ہزار بچے یتیم ہوئے جبکہ 54 ہزار بے گھر۔شام میں بچوں کی صورتحال پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ ستر لاکھ بچوں کو نقل مکانی کرنی پڑی اور پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔عراق میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو کروڑ ستر لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں عورتوں اور لڑکیوں کو جنسی تشدد، جنسی غلامی اور زبردستی کی شادیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو بیچا گیا۔اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراق میں دولتِ اسلامیہ نے نہ صرف بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے بلکہ کئی بچوں کو یا تو زبردستی پرتشدد کارروائیاں دیکھنے یا ان میں حصہ لینے پر مجبور کیا گی۔رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں دنیا بھر میں اتنے مسلح تصادم ہوئے ہیں لوگ یا تو ان کو جلد بھول گئے یا پھر ان پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، کونگو، پاکستان، صومالیہ، سوڈان اور یمن میں کئی عرصے سے جاری مسلح تصادم کے باعث کئی بچے متاثر ہوئے ہیں۔
جنوبی سوڈان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں ایک سال سے جاری مسلح تصادم میں ساڑھے سات لاکھ بچے پناہ۔زینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس کے علاقہ جنوبی سوڈان میں 12 ہزار بچوں کو جنگجوؤں یا فوج نے ریکروٹ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…